غلطیوں پر معافی مانگتا ہوں: پرویز مشرف

Image caption پرویز مشرف نے 1999 میں میاں محمد نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا تھا

پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے ملک کے عوام سے اپنے نو سالہ دورِ حکومت میں کی گئی غلطیوں پر معافی مانگی ہے۔

جمعرات کی شب ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ انھوں نے جو بھی فیصلے کیے تھے وہ خلوصِ نیت سے کیے تھے۔

انھوں نے کہا کہ اگر کچھ لوگوں کو ان کے فیصلے غلط لگتے ہوں تو اس کے لیے وہ معافی مانگتے ہیں۔

مشرف کے خلاف غداری مقدمے کی درخواست منظور

یہ پہلا موقع ہے کہ پرویز مشرف نے اپنے دورِ حکومت میں کیے گئے اقدامات پر معافی مانگی ہے۔

پرویز مشرف کو پاکستان کی عدالتوں میں اس وقت متعدد مقدموں کا سامنا ہے اور حکومتِ پاکستان ان پر نومبر سنہ 2007 میں ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی وجہ سے غداری کا مقدمہ بھی چلانے والی ہے۔

پرویز مشروف نے مختلف مقدمات میں ضمانت حاصل کرنے کے بعد پہلی بار نجی ٹی وی چینل اے آر وائی پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے جو کچھ کیا وہ پاکستان کے لیے کیا اور اس بات پر انھیں فخر ہے۔

ملک کو درپیش حالیہ مسائل پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دہشت گردی اور معیشت پاکستان کے اہم ترین مسائل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ قرضے مانگنے والی حکومتوں کی کوئی عزت نہیں کرتا۔

یاد رہے کہ حال ہی میں وزیراعظم نواز شریف کی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے قرضہ لیا ہے۔

پرویز مشرف نے پاکستان کے عوام سے اپیل کی کہ وہ فوج اور آئی ایس آئی کی حمایت کریں۔

ملک میں جاری ایک اہم معاملے کے حوالے سے پرویز مشرف نے کہا کہ وہ طالبان سے مذاکرات کے بھی حامی ہیں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ سابق فوجی صدر کے تین نومبر سنہ 2007 کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے اور عدالت کا کہنا ہے کہ اُن کے اقدامات آئین سے غداری کے زمرے میں آتے ہیں۔

پاکستانی آئین کی دفعہ چھ کی خلاف ورزی کرنے کی سزا موت اور عمرقید ہے اور قانونی ماہرین کے مطابق یہ عدالت کی صوبداید ہے کہ وہ کیا سزا تجویز کرتی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق مشرف کے خلاف آئین توڑنے کے مقدمے میں سزا ہونے کی صورت میں وہ پہلے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر سکیں گے۔

پرویز مشرف نے سنہ 1999 میں میاں محمد نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا تھا۔ سنہ 2001 سے سنہ 2008 تک وہ پاکستان کے صدر کے عہدے پر فائض رہے۔

اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد پرویز مشرف ملک سے باہر چلے گئے تھے تاہم سنہ 2013 میں وہ عام انتخابات میں شرکت کے ارادے سے پاکستان لوٹے تھے۔

پرویز مشرف کے دور کے اہم واقعات میں پاکستان کا افغانستان میں امریکہ کی جنگ میں ساتھ دینا، نواب اکبر بگٹی کا قتل، لال مسجد آپریشن اور نومبر سنہ 2007 میں ایمرجنسی کے دوران اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو حبسِ بے جا میں رکھنا شامل ہے۔

اسی بارے میں