آپریشن کرنا ہے تو قوم کو بتائیں: عمران خان

Image caption فوج کو میر علی میں کارروائی سے پہلے کم از کم علاقے سے خواتین اور بچوں کو نکال لینا چاہیے تھا: عمران خان

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اگر حکومت شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنا چاہتی ہے تو انہیں قوم کو بتانا چاہیے۔

گذشتہ چند روز کے دوران شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں اور پاکستان فوج کے درمیان شدید لڑائی جاری رہی اور فوج نے 33 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔

نہ امریکہ مخالف ہوں اور نہ ہی بھارت مخالف: عمران خان

’عمران کو دھکمیوں کے بعد سکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ‘

اس کے علاوہ پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے سنیچر کے روز کہا کہ دہشت گردوں کے حملے ہرگزبرداشت نہیں کیے جائیں گے اور ان کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کی جائے گی۔ تاہم جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ فوج امن کے لیے مذاکرات کے عمل میں حکومت کی مکمل حمایت کرے گی۔

عمران خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوج کے خلاف کارروائی کی مذمت کرتے ہیں تاہم اگر فوج جوابی کارروائی کرنے والی تھی تو انہیں میر علی پر بمباری کرنے سے پہلے کم از کم علاقے سے خواتین اور بچوں کو نکال لینا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ہی خواتین اور بچے ڈرون حملوں کا بے گناہ نشانہ بن رہے ہیں اور ایسی جنگ جس کے لیے یہ بے گناہ لوگ ذمہ دار نہیں، اب فوجی کارروائی بھی ان لوگوں پر مظالم کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم فاٹا کے عورتوں اور بچوں کو اس لاپرواہی سے نہیں دیکھا کر سکتے جس لاپرواہی سے ان کی اپنی ریاست انہیں دیکھتی ہے۔

عمران خان نے یاد دلوایا کہ قبائلی علاقے براہِ راست صدرِ پاکستان کے زیر انتظام ہیں اور انہیں اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ صدرِ پاکستان کرفیو اور فوجی کارروائیوں کے باوجود کیوں خاموش ہیں۔

عمران خان کا مطالبہ تھا کہ صدرِ پاکستان فوری طور پر فاٹا کے لوگوں کی مشکلات حل کریں اور اس سلسلے میں فوری طور پر اشیائے خورد و نوش، طبی امدادی سامان اور فوجی کارروائی سے حفاظت مہیا کی جائے۔

عمران خان نے کہا کہ حکومت کو نہ صرف ممکنہ فوجی آپریشن کا کنٹرول اور ذمہ داری لینا چاہیے بلکہ اسے تمام سیاسی جماعتوں کو بھی مطلع کرنا چاہیے کہ انہوں نے اے پی سی میں کیے گئے مذاکرات کے فیصلے کو بھی ترک کر دیا ہے۔

اسی بارے میں