’پولیم مہم کی سکیورٹی کا مستقل حل ہونا چاہیے‘

Image caption پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیموں کی حفاظت کرنے والے اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ناصر درانی نے کہا ہے کہ انسداد پولیو مہم کے لیے انھیں 50 فیصد نفری ٹیموں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے لگانی پڑتی ہے جبکہ پولیس کے پاس نفری اور وسائل کی کمی ہے۔

انسداد پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ علماء اور دیگر تمام طبقہ فکر کے لوگوں کو ساتھ ملایا جا رہا ہے تاکہ یہ ٹیمیں اپنا کام بہتر انداز میں کر سکیں۔

ناصر درانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ہماری فورس انسداد پولیو کی ٹیموں کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور حملہ آور موقع دیکھ کر چھپ کر حملے کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ کوئی دو بدو مقابلہ نہیں ہوتا بلکہ شدت پسند اس وقت حملہ کرتے ہیں جب اہلکار ڈیوٹی کے بعد واپس آ رہے ہوتے ہیں یا گاڑی ڈیوٹی پر جا رہی ہوتی ہے تو کہیں بم نصب کر دیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس کے لیے حکومت سے کہا گیا ہے کہ کوئی بہتر منصوبہ بندی کی جائے۔

پولیس پہلے سے ہی مختلف فرنٹ پر مصروف ہے اور چونکہ یہ عمل مستقل طور پر جاری رہے گا اس کے لیے مستقل حل ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ اس کے لیے ریٹائرڈ اہلکاروں کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں کیونکہ پولیس کو یہاں لگا دینا دیگر لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوگی جو ان کے تحفظ پر مامور ہے ۔

ان سے جب پوچھا کہ اس وقت پولیس کیا کردار ادا کر رہی ہے تو ناصر درانی نے کہا کہ پولیس اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے اور اس کے لیے منصوبہ بندی بہتر کی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کے لیے علماء اور دیگر تمام طبقوں کے لوگوں کو ساتھ ملا کر کام کرنا چاہیے اور چند روز پہلے ایک مدرسے نے جو فتویٰ دیا ہے وہ اس حوالے سے بہتر ہے اور اس کے لیے مذید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے ۔

اس سال پولیو کے سب سے زیادہ مریض خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں سے سامنے آئے ہیں جبکہ سب سے زیادہ حملے بھی خیبر پختونخوا میں انسداد پولیو یا انھیں تحفظ فراہم کرنے والی ٹیموں پر ہوئے ہیں۔

ناصر درانی سے جب پوچھا کہ انسداد پولیو کی ٹیموں کے ساتھ غیر تربیت یافتہ سپیشل پولیس کے نوجوان تعینات کیے جاتے ہیں جو غیر تجربہ کار ہوتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے لیکن پولیس کی اپنی مجبوریاں ہیں اور جو وسائل ہمارے پاس دستیاب ہیں ہم ان کا استعمال کر رہے ہیں۔

’یہ خصوصی پولیس ہے ریگولر پولیس نہیں ہے اور یہ کسی اور مقصد کے لیے قائم کی گئی تھی لیکن ان سے ہم کوئی اور کام لے رہے ہیں۔ جہاں تک بات ہے تربیت کی تو ہماری نفری میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن ان کی تربیت کے مراکز محدود ہیں اس کے لیے اب پولیس لائنز میں مختصر دورانیے کی تربیت فراہم کرنے کے لیے بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انسپکٹر جنرل نے کہا کہ کہ اگر مذہبی رہنما اور علماء نے ذمہ داری قبول کر لی تو اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے کیونکہ بنگلہ دیش میں خاندانی منصوبہ بندی کے لیے بھی علماء کی خدمات حاصل کی گئی تھیں اور یہ منصوبہ کامیاب ہوا تھا یہاں بھی ایسا کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں