چہلم کے جلوس کے راستے میں دھماکے، چار ہلاک پندرہ زخمی

Image caption کراچی اور راولپنڈی میں چہلم کے موقع پر فوج طلب کی گئی ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ماتمی جلوسوں کے راستوں پر ہونے والے تین دھماکوں میں چار افراد ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

اس سے پہلے کراچی سے نامہ نگار حسن کاظمی نے بتایا کہ عباسی شہید ہسپتال کے ایم ایل او نے تصدیق کی تھی کہ اورنگی ٹاؤن میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں تین افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوئے۔ سینیئر ایم ایل او ڈاکٹر ۤفتاب چنڑ کا کہنا تھا کہ تمام افراد دھماکہ خیز مواد کا نشانہ بنے ہیں۔ تاہم دھماکوں کا ایک زخمی عباسی شہید ہسپتال میں دم توڑ گیا جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد چار ہوگئی ہے۔

سندھ کے شہر میر پور خاص سے علی حسن نے اطلاع دی کہ چہلم کے جلوس کے راستے کے حوالے سے ہونے والے تنازعے میں دو گروپوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں چھ افراد زخمی ہوگئے جن میں سے تین کو حیدر آباد کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ تاہم بعد میں رینجرز اور پولیس نے صورتحال پر قابو پالیا۔

راولپنڈی میں چہلم کا جلوس پرامن طریقے سے اختتام پذیر

دریں اثنا راولپنڈی میں چہلم کا جلوس سکیورٹی کے انتہائی سخت حصار میں منگل کی شام بغیر کسی ناخوشگورا واقعے کے اختتام پذیر ہوگیا۔ راولپنڈی میں گذشتہ روز سے فوج اور رینجرز کا گشت جاری تھا۔

کراچی میں پہلا دھماکہ کیپری سنیما کے قریب ایم اے جناح روڈ پر مرکزی جلوس کے راستے میں ہوا تاہم اس وقت تک جلوس اس جگہ نہیں پہنچا تھا اس لیے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد سڑک کنارے اشتہاری بورڈ کے کھمبے میں نصب تھا۔

جائے وقوعہ پر موجود کراچی پولیس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل شاہد حیات نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کی مقدار کم تھی اور ایم اے جناح روڈ کی دوبارہ چیکنگ کی جا رہی ہے۔

اس دھماکے کے کچھ دیر بعد اورنگی ٹاؤن دس نمبر کے علاقے میں امام بارگاہ کے باہر دو دھماکے ہوئے۔

مومن آباد پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کے حسن کاظمی کو بتایا کہ ایک دھماکہ فٹ پاتھ پر جبکہ دوسرا موٹرسائیکلوں کی دکان میں ہوا۔

Image caption فوج اور رینجرز کے دستے حساس شہروں میں گشت کر رہے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے سے ایک شخص موقع پر ہی ہلاک ہوگیا جبکہ دس زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس دھماکے کی جگہ پر موجود ایک ایمبولینس کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق کراچی میں چہلمِ امام حسین کے موقع پر جلوسوں کے راستے کنٹینر لگا کر بند کیے گئے ہیں اور صوبائی محکمۂ داخلہ نے پورے صوبے میں ڈبل سواری پر پابندی لگا دی ہے۔

کراچی سمیت صوبے کے کئی شہروں میں موبائل سروس بھی معطل ہے جبکہ حساس اضلاع میں فوج بھی تعینات ہے۔

اس مرتبہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے راولپنڈی میں جلوس کے راستے پیر کی شب سے ہی سِیل کر دیے گئے اور فوج اور رینجرز کے دستے شہر میں گشت کر رہے ہیں۔ شہر میں پانچ ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

Image caption کراچی میں جلوس کے گرد حفاظتی حصار قائم کیا گیا ہے

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق منگل کو جلوس کے آغاز کے بعد مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے دو سو کے قریب افراد نے ڈھوک دلال کے علاقے سے جلوس کے راستے میں واقع مدرسے جانے کی کوشش کی تو پولیس نے انھیں آنسو گیس پھینک کر منتشر کر دیا۔

اس موقع پر مشتعل مظاہرین نے نعرے بازی کی اور پتھراؤ بھی کیا۔ پولیس سے ہاتھا پائی میں پانچ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پولیس ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں سے ایک درجن سے زیادہ مذہبی علما کو بھی حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ 100 سے زیادہ دیگر مشتبہ افراد بھی زیرِ حراست ہیں۔

شہدائے کربلا کے چہلم کے موقعے پر منگل کو پاکستان کے اہم شہروں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان کے حکم پر حساس مقامات پر جلوسوں کی فضائی نگرانی بھی کی جائے گی۔

پولیس کو حفاظتی انتظامات میں فوج اور رینجرز کی مدد بھی حاصل ہے۔ پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق ملک کے حساس شہروں میں جوان امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دس ہزار فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔

ان فوجیوں کی تعیناتی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی درخواست پر عمل میں آئی ہے۔

اسی بارے میں