غداری مقدمہ:پرویز مشرف پر فردِ جرم یکم جنوری کو عائد ہوگی

Image caption پرویز مشرف کے وکلا نے حال ہی میں اقوامِ متحدہ سے بھی اس مقدمے میں مداخلت کی اپیل کی ہے

پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف آئین توڑنے کے الزام میں غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے یکم جنوری کو ان پر فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا ہے۔

وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کے خلاف آئین توڑنے اور تین نومبر سنہ 2007 کو ملک میں ایمرجنسی لگانے پر غداری کا مقدمہ شروع کرنے کی استدعا کی تھی۔ پاکستانی آئین کی دفعہ چھ کی خلاف ورزی کرنے کی سزا موت اور عمر قید ہے۔

غلطیوں پر معافی مانگتا ہوں: مشرف

تین رکنی خصوصی عدالت نے منگل کو وزیراعظم سیکرٹریٹ سے ملحقہ نیشنل لائبریری میں پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کی اور اس موقع پر عمارت کے اردگرد سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

پرویز مشرف سماعت کے موقع پر عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پر استغاثہ نے ان کی گرفتاری کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرنے کی استدعا کی۔

اس پر سابق صدر کے وکیل انور منصور خان نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کی جان کو شدید خطرہ ہے اور اسی لیے وہ عدالت میں نہیں آئے۔

اس پر عدالت نے کہا کہ ملزم کو صرف ایک بار حاضری سے استثنیٰ دیا جا رہا ہے اور وہ یکم جنوری کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوں جب ان کے خلاف فردِ جرم عدالت میں پیش کی جائے گی۔

عدالت نے آئندہ پیشی پر سابق فوجی صدر کو ضروری سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

پولیس ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ منگل کو اس راستے سے دھماکہ خیز مواد اور دو پستول بھی برآمد ہوئے ہیں جہاں سے گزر کر پرویز مشرف کو عدالت آنا تھا۔

سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پرویز مشرف کے وکلا کی ٹیم کے رکن احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ جب تک وزارت داخلہ کا کوئی ذمہ دار فرد سکیورٹی کی ذمہ داری نہیں لیتا اس وقت تک پرویز مشرف عدالت نہیں آئیں گے۔

پرویز مشرف کے وکلا نے سماعت کے آغاز پر خصوصی عدالت میں ایک اور درخواست دائر کی جس میں اس عدالت کے اختیارات اور ججوں پر اعتراضات کیے گئے ہیں۔

یہ تین رکنی خصوصی عدالت سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس فیصل عرب، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس یاور علی اور بلوچستان ہائی کورٹ کی جسٹس طاہرہ صفدر پر مشتمل ہے۔ جسٹس فیصل عرب کو اس عدالت کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ عدالت سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اور وزیراعظم نواز شریف کی ملی بھگت سے بنائی گئی ہے اور یہاں ’پراسیکیوشن‘ نہیں بلکہ ’پرسکیوشن‘ ہوگی۔ خصوصی عدالت نے اس درخواست پر وفاق سے جواب طلب کر لیا ہے۔

پرویز مشرف کے وکیل خالد رانجھا نے سماعت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ’ہمیں پراسیکیوٹرز کی تعیناتی پر بھی اعتراض ہے۔ پراسیکیوٹر وہ ہوتا ہے جو مکمل غیر جانبدار ہو اور اس کی سوچ کسی کو سزا دلوانا نہیں بلکہ انصاف ہوتی ہے لیکن جو پراسیکیوٹرز تعینات کئے گئے ہیں وہ پراسیکیوٹرز نہیں بلکہ پرسیکیوٹرز ہیں اس لیے یہ مقدمہ منصفانہ نہیں ہو سکتا۔‘

اس سے قبل پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق فوجی صدر کی طرف سے اُن کے خلاف مقدمہ صرف فوجی عدالت میں چلائے جانے کی درخواست سمیت خصوصی عدلت میں موجود ججوں اور اس مقدمے کے پراسیکوٹر کے خلاف دائر کی جانے والی تینوں درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔

اسی بارے میں