2013 انقلاب کے نعرے سے شروع ہوا

نواز شریف اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہوئے

پاکستان میں سنہ 2013 ایک نئے انقلاب کے نعرے سے شروع ہوا۔

تحریک منہاج القرآن کے سربراہ طاہرالقادری اپنے خودساختہ انقلاب کی قیادت کرنے کے لیے خصوصی طور پر سات سمندر پار، اپنے دوسرے وطن کینیڈا سے پاکستان آئے اور ہزاروں حامیوں کے ساتھ اسلام آباد میں دھرنا دے کے بیٹھ گئے۔

ان کے مطالبات بھی ان کی تقریروں کی طرح بہت پرجوش تھے: تمام حکومتیں، اسمبلیاں، پارلیمینٹ اور الیکشن کمیشن کو تحلیل کر دیا جائے اور فوج اور عدلیہ کی مشاورت سے عبوری حکومت بنے جو آئین کے آرٹیکل باسٹھ، تریسٹھ اور 218 کے مطابق انتخابات سے پہلے اصلاحات کرے۔

تجزیہ کار خادم حسین کہتے ہیں کہ طاہر القادری اپنے عزائم میں اکیلے نہیں تھے بلکہ اُن کے پیچھے پاکستان کی وہی قوتیں تھیں جو جمہوریت کا گلہ گھوٹتی رہی ہیں۔

’ان حلقوں نے جو آمریت، اشرافیت اور مرکزیت کے نمائندے تھے، انہوں نے جگہ جگہ پر ایسی بارودی سرنگیں رکھ لیں تھیں جنہیں استعمال کرنے کا موقع ان کے ہاتھ آگیا تھا، اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کہ جب طاہر القادری تشریف لے آئے اور اچانک ان کو یاد آیا کہ پاکستان کے آئین میں نکات ایسے ہیں جن پر ابھی تک عمل نہیں ہو پایا اور جب تک ان پر عمل نہیں ہوگا جمہوری نظام چل نہیں سکتا۔ تو ایک ہتھکنڈا یہ تھا کہ کس طرح سے ان بارودی سرنگوں کو استعمال کیا جائے جو جمہوریت کے خلاف آئین کے اندر رکھی گئی تھیں۔‘

مگر جتنی شدت سے خودساختہ انقلاب کا جن نمودار ہوا تھا، اتنی ہی تیزی سے یہ بوتل میں بند ہوگیا حالانکہ پاکستانی میڈیا پر طاہر القادری کے انقلاب کے اس نعرے کی بڑے پیمانے پر تشہیر ہوئی تھی اور حسن اتفاق دیکھیے کہ ایک منتخب وزیر اعظم کو اقتدار سے ہٹانے والی عدالت نے قادری کے دھرنے کے دوسرے ہی دن ایک اور منتخب وزیر اعظم کی گرفتاری کا بھی حکم دیدیا تھا۔

قانون دان اور انسانی حقوق کی نامور کارکن عاصمہ جہانگیر کہتی ہیں ہے کہ اس کی وجہ رائے عامہ تھی جو بڑی تیزی سے بدلی۔

’ہم پہلے تو یہ سمجھتے تھے کہ صرف سیاستدان ہی رائے عامہ کے پیچھے جاتے ہیں۔ مگر ہم نے دیکھا کہ میڈیا بھی رائے عامہ کو دیکھ کر اپنا لہجہ بدل لیتا ہے۔ وہ رائے عامہ بناتا بھی ہے اور بدلتا بھی ہے اور پھر اسی طرح معذرت کے ساتھ ہماری عدالتیں بھی رائے عامہ کے حساب سے اپنا لہجہ بدل لیتی ہیں۔‘

مگر تجزیہ کار خادم حسین کہتے ہیں کہ طاہر القادری کے انقلاب کا غبارہ پھٹنے کی بڑی وجہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کا ایک نکتے پر متحد ہوجانا تھا اور وہ تھا جمہوری عمل کا تسلسل۔

’جو بات بہت اہم تھی وہ یہ تھی کہ کس طرح پاکستان کی سیاسی قیادت نے اس پورے ہتھکنڈے کے غبارے سے ہوا نکال دی۔ یہ بہت اہم بات ہے۔ یعنی ان کو جیل میں نہیں ڈالا، ان کا راستہ نہیں روکا، ڈرایا دھمکایا نہیں بلکہ ان کے مشہور زمانہ کیبن میں ان کے پاس جاکر چھ گھنٹے جاکے بیٹھے اور پھر ایک معاہدہ آگیا اور پریس کانفرنس ہوئی۔‘

پھر گیارہ مئی کو ملک میں عام انتخابات ہوئے۔ دھمکیوں اور خطرات کے باوجود لوگ بہت بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے نکلے اور پاکستان میں پہلی بار جمہوریت کو پرامن طور پر اقتدار منتقل کرنے کا موقع ملا۔ ہمیشہ کی طرح دھاندلی کے الزامات بھی سنائی دیے مگر مجموعی طور پر تمام ہی جماعتوں نے انتخابی نتائج کو خوش دلی سے قبول کیا۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مبشر زیدی کہتے ہیں کہ یہ پاکستان کے عوام اور جمہوریت کے لیے بہت اہم لمحہ تھا۔

’میرے خیال میں پچھلے تین چار عشروں میں پاکستانی عوام کو اس سے بڑھ کر کوئی خوشی نہیں ملی کیونکہ فوج نے اتنی زیادہ حکومتوں کو باہر کیا اور خود براہ راست حکومت بھی کی۔‘

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مبشر زیدی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان عام انتخابات کے نتائج بھی حیران کن تھے۔

’سب کا خیال یہ تھا کہ مخلوط قسم کا مینڈیٹ آئے گا اور کوئی جماعت اکثریت حاصل نہیں کرپائے گی۔ مگر پاکستانی عوام نے سب کو چونکا دیا۔ جو جماعتیں بڑھ بڑھ کے وعدے کر رہی تھیں کہ ہم دہشتگردی مٹادیں گے، امن قائم کردیں گے، میرے خیال میں عوام نے ان کا بھی جھوٹ پکڑنے کے لیے ان سے کہا کہ آئیے طالبان سے مذاکرات کرکے کم از کم امن قائم کریں۔‘

پاکستان: جمہوریت کے لیے 2013 کیسا رہا؟ دوسرا حصہ