پاکستان: جمہوریت کے لیے 2013 کیسا رہا؟ دوسرا حصہ

گیارہ مئی کے انتخابات کے لیے سب ہی سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے کا موقع نہیں ملا، کئی جماعتیں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی ہٹ لسٹ پر ہونے کی وجہ سے نہ تو جلسے کرسکیں اور نہ ہی ووٹروں سے براہ راست رابطہ۔ ایسی صورتحال میں یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ انتخابات کے نتائج پر اس کا اثر نہ پڑتا۔

تجزیہ کار خادم حسین کہتے ہیں کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے پہلی مرتبہ انتخابات میں باقاعدہ حصہ لیا اور جن جماعتوں کو وہ خیبر پختونخوا اور مرکز میں اقتدار میں لانا چاہتے تھے، انہیں بھرپور مدد فراہم کی جو صاف نظر آرہی تھی۔

’ایسے تمام امیدوار جو پیپلز پارٹی یا عوامی نیشنل پارٹی یا ایم کیو ایم کے تھے، خیبر پختونخوا میں بالخصوص اور دوسرے صوبوں میں بالعموم، انہیں مہم چلانے نہیں دی گئی، انہیں گھر سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا، ان کے ووٹروں کو ڈرایا دھمکایا گیا، لوگوں کو اغوا کیا گیا، حملے کیے گئے اور خوف کی فضا طاری کردی گئی۔ آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں کوئی جلسہ نہیں ہوا۔ جلسے صرف پنجاب میں ہو رہے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ صرف پنجاب میں الیکشنز ہو رہے ہیں۔‘

اس سب کے باوجود انتخابی عمل کی ساکھ پر بہت زیادہ انگلیاں نہیں اٹھیں۔ عاصمہ جہانگیر کہتی ہیں کہ اس کی وجہ بھی سیاسی جماعتوں کا ایک معاملے پر وسیع تر اتفاق رائے تھا۔

’جہاں تک الیکشن کمیشن کا تعلق تھا، میں نے ایسے انتخابات کبھی نہیں دیکھے جو کہ مکمل طور پر بدانتظامی کا شکار تھے۔ اس لیے ظاہر ہے کہ جس کا داؤ چلا اس نے اپنے اپنے علاقے میں روندی مارلی۔ مگر مجموعی طور پر اس پر اس قسم کا بھونچال نہیں آیا کہ لوگوں نے سڑکوں پر نکل کے کہا ہو کہ منظم دھاندلی ہوئی ہے اور سوائے ایک دو کے تمام سیاسی جماعتوں نے نتائج کو تسلیم کیا جس کی وجہ یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر ایک ایسے شخص تھے جو سب کی رائے سے لگے تھے۔‘

جمہوری عمل جاری رہا اور عام انتخابات کے ڈھائی ماہ بعد صدارتی انتخابات ہوئے۔ مسلم لیگ نون کے ممنون حسین ملک کے نئے صدر منتخب ہوئے اور آٹھ ستمبر کو صدر آصف علی زرداری سرکاری اعزاز و احترام کے ساتھ ایوان صدر سے رخصت ہوگئے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے ان کے اعزاز میں دیے گئے الوداعی عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے کھلے دل سے ماننا چاہیے کہ زرداری صاحب نے سیاست میں گرمجوش ذاتی تعلق، اپنائیت اور سماجی رشتوں کو نہایت عمدگی سے رواج دیا اور مفاہمت کے نظریے کو متعارف بھی کرایا اور کامیابی سے پروان بھی چڑھایا۔‘

صدر زرداری ایوان صدر سے بہت سے نئے اور پرانے الزامات کا بوجھ لے کر رخصت ہوئے مگر ناقدین بھی ان کی برداشت اور مفاہمت کی سیاست اور آئینی اصلاحات کا اعتراف کرتے ہوئے نظر آئے۔

تجزیہ کار خادم حسین اس کی توجیح بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’بی بی محترمہ کے شہید ہونے کے بعد شاید سندھ، پاکستان سے چلا جاتا، انھوں (آصف علی زرداری) نے ریاست بچا لی ہے۔ پھر مفاہمت کا جو عمل بے نظیر بھٹو نے شروع کیا تھا اور اپنی آخری کتاب میں بھی لکھا، زرداری صاحب نے اس پر صحیح طور پر عمل کرکے دکھایا۔ ایک تو یہ ہے نا کہ آپ بات کرتے ہیں مگر انھوں نے عملی طور پر مفاہمت کو رواج دیا۔‘

خادم حسین نے آصف علی زرداری کے سیاسی ورثے کے ایک اور پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں کئی ایسے بھونچال پیدا کردینے والے واقعات ہوئے جن پر ماضی میں حکومتیں الٹ گئیں۔

’مثلاً کیری لوگر بل کا تنازعہ، ججوں کی بحالی کا جلوس، سلالہ اور ایبٹ آباد جیسے واقعات، لیکن زرداری صاحب بہت ہی جرات اور دانشمندی کے ساتھ ان سے نمٹے۔ وہ پوری سماجی نفسیات، میڈیا اور اسٹیبلشمینٹ کے تمام تر ہتھکنڈوں کے خلاف پانچ سال صدر رہے، یہ پاکستان کے عوام کی بہت بڑی فتح ہے۔‘

صدر زرداری کی رخصتی کے اگلے ہی دن نو ستمبر کو وفاقی حکومت کی دعوت پر کل جماعتی کانفرنس ہوئی اور ملک کی منتخب سیاسی قیادت اور فوجی حکام نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا کہ شدت پسندی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پاکستانی طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کو اولیت دی جائے گی مگر ستمبر کے ہی مہینے میں دیر بالا اور پشاور میں فوجی قافلے، گرجا گھر اور قصہ خوانی بازار پر بم حملے ہوئے اور ایک فوجی جرنیل سمیت سوا سو کے قریب لوگ مارے گئے۔

حکومت بہرحال پاکستانی طالبان کے ساتھ امن بات چیت کے عزم پر قائم رہی مگر یکم نومبر کو شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد فریقین میں امن بات چیت کے امکانات معدوم ہوکے رہ گئے۔

مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف دونوں نے ہی اسے امن کی کوششوں پر حملہ کہا۔ جمعیت علمائے اسلام کے اپنے ہی دھڑے کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بالواسطہ طور پر اور جماعت اسلامی کے رہنما منور حسن نے براہ راست حکیم اللہ محسود کو ’شہید‘ قرار دیا۔

پاکستانی فوج نے منور حسن کے بیان کی سخت مذمت کی اور ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جسے جماعت اسلامی نے مسترد کردیا۔

فوج اور جماعت اسلامی کے بیچ ہونے والی اس تکرار کے بعد حکومت کا مؤقف بھی بدلتا ہوا نظر آیا اور اب وہ پاکستانی طالبان سے امن مذاکرات کی بات اُتنی شدومد سے کرتی نظر نہیں آتی۔

Image caption صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کے کارکنوں نے ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجاً نیٹو سپلائیروکنا شروع کردی

مگر دوسری طرف صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کے کارکنوں نے ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجاً نیٹو کا سامان لے جانے والی گاڑیاں روکنا شروع کردیں جس پر امریکہ نے طورخم کے راستے سامان کی نقل و حرکت عارضی طور پر روک دی۔ اب امریکہ پاکستان کو واجبات کی ادائیگی پاکستانی سرزمین سے نیٹو کے سامان کی بلا روک ٹوک نقل و حمل سے مشروط کرنے جارہا ہے۔

صحافی مبشر زیدی کہتے ہیں کہ ڈرون حملوں پر پاکستان کی منتخب قیادت اور فوج کا الگ الگ مؤقف باہمی خلیج کو ظاہر کرتا ہے۔

’یہ اس چیز کو ظاہر کرتا ہے کہ ابھی تک حکومت اور فوج کے درمیان ہماری جو قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی ہے، اس پر کوئی ٹھوس بات چیت نہیں ہوئی، کوئی ایسی پالیسی نہیں بنی کہ آگے ہمیں کیا کرنا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ نواز شریف اس معاملے میں بہت محتاط ہیں کیونکہ وہ اپنے ماضی کے تجربات کی بناء پر ڈر رہے ہیں کیونکہ ڈرون حملوں پر بہت حد تک اب چیزیں سامنے آچکی ہیں کہ امریکہ جب بھی ڈرون حملہ کرتا ہے اسے فوج کی آشیرباد حاصل ہوتی ہے۔

مبشر زیدی کہتے یں کہ ’آئی ایس آئی کے سابق سربراہ شجاع پاشا ایبٹ آباد کمیشن کے سامنے کہہ چکے ہیں تو بہت سی چیزیں سامنے آچکی ہیں۔ جیسے حسین حقانی نے اپنی کتاب میں بھی لکھا ہے کہ بیت اللہ محسود کو مارنے کے لیے پاکستانی فوج نے کہا تھا تو میں حیران نہیں ہوں گا کہ ایک سال بعد ہم سنیں کہ حکیم اللہ کو مارنے کے لیے بھی پاکستان کی فوج نے ہی امریکہ کو درخواست کی تھی۔‘

اب صورتحال یہ ہے کہ حکومت کی امن کی کوششیں شروع ہونے سے پہلے ہی دم توڑ گئی ہیں، شدت پسندوں کے بم حملے بھی جاری ہیں اور قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی محدود سطح پر جوابی کارروائیاں بھی۔ نہ تو ڈرون حملے رکے ہیں اور نہ ہی تحریک انصاف اور اسکے اتحادیوں کا ڈرون مخالف احتجاج۔

صحافی اور تجزیہ کار مبشر زیدی کہتے ہیں کہ مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کو ملک میں امن اور استحکام پیدا کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے ورنہ عوام میں مایوسی بڑھے گی۔

’ان جماعتوں کو ابھی اندازہ نہیں کہ عوام کتنے شش و پنج کا شکار ہیں۔ نقصان یہ ہوا ہے کہ عوام جنہوں نے بڑی امیدیں لگائی تھیں، وہ اب دہشتگردی کو ختم کرنے کے لیے یہ جماعتیں جو فیصلے اور اقدامات لے رہی ہیں، (عوام) انہیں شک کی نگاہ سے دیکھنا شروع ہوگئے ہیں اور اسی بنا پر حکیم اللہ محسود کی موت پر حکمران جماعتوں کے ردعمل کے برعکس لوگوں نے سڑکوں پر نکل کے غم و غصے کا اظہار نہیں کیا۔ تو ان جماعتوں کو سوچنا ہوگا کہ اگر وہ عوام کی منشا کے مطابق نہیں چلیں گی تو چھ مہینے سال کے بعد عوام ان سے بھی امید لگانا چھوڑ دیں گے۔‘

تجزیہ کار خادم حسین کہتے ہیں کہ دہشتگردی کے ناسور کے علاج کے لیے حکومت کو پانچ بنیادی اقدامات کرنا ہوں گے۔ پہلا یہ کہ شدت پسندی پر مائل افراد کو متبادل نظریہ دینا ہوگا، جنگ کی معیشت کے مقابلے میں امن کی معیشت لانا ہوگی، جہاد کے عنصر کو خارجہ پالیسی سے حذف کرنا ہوگا، شدت پسندوں کے خلاف طاقت کے استعمال میں احتساب اور معیاد کے پہلوؤں کو شامل کرنا ہوگا اور پانچواں اور آخری یہ کہ شدت پسندی ترک کرنے والوں کے لیے مصالحت اور مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا ہوگا۔

’طالبان سے مذاکرات کے لیے بھی فریم ورک بنانے کی ضرورت ہے، جو کہیں نظر نہیں آتا تو آپ براہ مہربانی فریم ورک بنائیں جس کی بنیاد آئین ہو یا انسانی حقوق کا عالمی چارٹر ہو یا پھر تہذیبی ورثہ۔ جو بھی آپ کو درست لگتا ہے مگر صرف مذاکرات کو ہی واحد حل سمجھنا بہت بڑا منطقی مغالطہ ہے۔‘

اور 2013 میں ہی پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت سنگین بغاوت کے الزام میں مقدمے کی سماعت بھی شروع ہونے جارہی ہے۔ ملکی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ کسی فوجی آمر کو غداری کے الزام میں کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے مگر اس کی بنیاد اکتوبر 99 میں ہونے والی فوجی بغاوت کو نہیں بلکہ ستمبر 2007 میں ان کے حکم پر آئین کی معطلی اور ایمرجنسی کے نفاذ کو بنایا گیا ہے جس وجہ سے اس مقدمے کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔

عاصمہ جہانگیر کہتی ہیں کہ یہ نہ تو درست سیاسی فیصلہ ہے اور نہ ہی مثبت قدم۔

’چونکہ آپ جب بغاوت پر صرف ایک انسان کو ہی ٹانگنا شروع کردیں تو رسّی ہے وہ آپ کے گلے میں بھی آسکتی ہے۔ اور یہ کہنا کہ جو انسان بغاوت کرے، اس کا ہی صرف قصور ہے درست نہیں، جو لوگ اُس بغاوت کے ساتھ بیٹھتے ہیں، جو اسے جائز قرار دیتے ہیں اور معاف کیجیے گا، کونسے سیاستدان تھے جو ان کے ساتھ نہیں بیٹھے تھے۔‘

عاصمہ جہانگیر کہتی ہیں کہ مشرف کی فوجی بغاوت کے بعد پاکستان کی پوری لبرل لابی ان کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ ’اور مجھے تو یہ بھی یاد ہے کہ جب میں نے مشرف کے مارشل لا کے خلاف پہلی آواز اٹھائی تو لوگ کہتے تھے کہ یہ کیا احمق خاتون ہے جو اتنا اچھا اور لبرل جنرل ملا ہے ہمیں، اس کے خلاف بول رہی ہے اور ان کے زمانے میں لوگ لاپتہ ہوئے، ان کے زمانے میں ڈرون ہوئے مگر جو آج لاپتہ لوگوں اور ڈرون کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں، اُس وقت ایک لفظ نہیں بولے تھے۔‘

سال 2013 پاکستان کی جمہوریت اور جمہوری قوتوں کے لیے خوشگوار اور حوصلہ افزا تجربات کا سال رہا ہے مگر دہشتگردی، کمزور معیشت، توانائی کے بحران جیسے فوری اور سنگین مسائل اس کے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں، جمہوری قوتوں کو اب محتاط سے زیادہ فیصلہ کن رویہ اپنانا ہوگا ورنہ ان کے لیے یہ گھیرا اور تنگ ہوسکتا ہے۔