احمدی ڈاکٹر جو خود خبروں کا موضوع بن گیا

Image caption چھلے ماہ موبائل فون پر بنی ایک ویڈیو نے ڈاکٹر مسعود احمد کی زندگی بدل دی اور انہیں جیل پہنچا دیا

کئی برس پہلے پاکستانی نژاد برطانوی ہومیوپیتھ ڈاکٹر مسعود احمد اس نیت سے وطن واپس لوٹے کہ وہ اپنی اولاد کو پاکستانی کلچر کے مطابق پال سکیں۔ لیکن سالوں پاکستان میں مقیم رہنے کے باوجود پچھلے ماہ موبائل فون پر بنی ایک ویڈیو نے ڈاکٹر مسعود احمد کی زندگی بدل دی اور انہیں جیل پہنچا دیا۔

احمدی فرقے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مسعود احمد سے میری ملاقات عدالت میں ان کی پیشی کے دوران ہوئی۔ لیکن سخت پہرے کی وجہ سے ان سے چند سوال ہی ممکن ہو سکے۔

ناتواں اور کم گو ڈاکٹر مسعود پریشان ضرور لگ رہے تھے لیکن ان کی پریشانی اپنی حالت سے زیادہ اپنے بچوں کی وجہ سے تھی۔ ’انہیں بتا دیں کہ میں بالکل خیریت سے ہوں۔‘

ان کے سات بچے برطانیہ اور آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔

بہتر سالہ ڈاکٹر مسعود احمد کو پچھلے ماہ لاہور کے علاقے پرانی انارکلی کے علاقے میں ان کے ہومیوپیتھک کلینک سے شعائر اسلام کی توہین کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

چھبیس نومبر کو دو افراد ان کے کلینک میں مریض بن کر آئے مگر انہوں نے اپنا مرض بتانے کی بجائے ڈاکٹر مسعود سے ان کے عقیدے کے بارے میں گفتگو شروع کر دی۔

یہ گفتگو انہوں نے موبائل فون پر خفیہ طور پر ریکارڈ کی جس میں ڈاکٹر مسعود احمد کو قران کا حوالہ دیتے بھی سنا جا سکتا ہے۔

پاکستانی قوانین میں احمدیوں کا سلام کرنا، اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنا حتٰی کہ مسلمانوں کی شکل و شباہت جیسا لگنا بھی جرم ہے۔ مسلمانوں کی طرح دکھائی دینے کے جرم میں ایک احمدی تین سال تک کے لیے جیل جا سکتا ہے۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین کے مطابق اس قانون کے تحت دسیوں افراد پر مختلف وجوہات کی بنا پر ایف آئی آر کاٹی گئی ہیں جن کے جرائم اسلام علیکم کہنا، دکان میں قرآنی آیات لگانا اور بعض کیسوں میں تو ایک مسلمان کی وضع قطع بھی ہے۔

سلیم الدین کے مطابق ایک کم سن بچی بھی اسی جرم میں جیل جا چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ:’جب تک ان امتیازی قوانین کا خاتمہ نہیں کیا جاتا تب تک صورتحال میں کسی قسم کی تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ بد سے بدتر ہوتی جائے گی۔‘

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق یہ قانون پاکستان میں احمدیوں کو دیوار سے لگانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے پہلے سے ہی زیرِ عتاب جماعت کے اراکین کے لیے زندگی گزارنا اور بھی مشکل ہو گیا ہے۔

Image caption ضیا الحق کے زمانے میں قادیانیت آرڈینینس کا اجرا ہوا

پاکستان کی انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ’جب آپ اقلیتوں کے ساتھ استحصال کو باقاعدہ اور باضابطہ بنا دیتے ہیں تو آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ شدت پسند عناصر اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش ضرور کریں گے کیونکہ وہ تو پلتے ہی اسی چیز پر ہیں۔‘

ڈاکٹر مسعود احمد کا کہنا ہے انہیں بہت دنوں سے احساس تھا کہ کوئی ان کی نگرانی کر رہا ہے اور ان کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔’کسی نے میرے گھر کے باہر میری گاڑی پر میری گرفتاری سے چند دن قبل ہی ایک کالا نشان لگا دیا تھا۔‘

مگر انہوں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ انہیں یوں گرفتار کر لیا جائے گا۔ بقول ان کے وہ پرانی انارکلی کے علاقے میں عرصہ دراز سے رہ رہے ہیں اور ان کے مقامی لوگوں سے بہت اچھے تعلقات ہیں۔

پولیس کے مطابق دس مقامی شہریوں اور ہمسایوں نے عینی شاہد کے طور پر شہادتیں دی ہیں کہ ڈاکٹر مسعود اپنے مسلک کا پرچار کر رہے تھے۔ لیکن ڈاکٹر مسعود کا کہنا ہے کہ ان کے کئی جاننے والے ان سے ملاقات کے لیے جیل میں آئے اور وہ ان کی صحت کے بارے میں فکر مند تھے۔

’میں کسی مذہبی بحث میں شامل نہیں ہوتا اور میں ایک ڈاکٹر ہوں اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کو سمجھتا ہوں۔‘

ڈاکٹر مسعود کے خلاف دی گئی درخواست ایک مقامی مولوی کی جانب سے دی گئی ہے جنہوں نے بات کرنے سےانکار کر دیا مگر اس درخواست پر دیے گئے موبائل نمبر پرجب کال کی گئی تو فون محمد حسن معاویہ نے اٹھایا جن کا نام لاہور میں احمدیوں کے خلاف دی گئی کئی اور درخواستوں میں بھی نظر آتا ہے۔

محمد حسن معاویہ پاکستان علما کونسل کے سربراہ حافظ طاہر اشرفی کے بھائی ہیں اور ختمِ نبوت لائرز فورم سے منسلک ہیں۔

محمد حسن معاویہ کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا ان کا قانونی اور آئینی حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ :’1984 میں قانون بننے کے بعد یہ مطلب نہیں کہ اسے نظر انداز کر دیا جائے بلکہ اسے نافذ کیا جانا چاہیے۔‘

Image caption احمدیوں کو اپنے مسلک کا نام مسلمانوں سے علیحدہ رکھنا چاہیے: درخواست گزار حسن معاویہ

حسن معاویہ کا کہنا ہے کہ ’احمدیوں کو اپنے مسلک کا نام اور اپنا نام مسلمانوں سے علیحدہ رکھنا چاہیے ورنہ یہ ملکی قانون کی خلاف ورزی ہے اور ہمیں ملکی قانون اجازت دیتا ہے کہ ہم اپنا کام جاری رکھیں۔‘

جب ڈاکٹر مسعود کو گرفتار کیا گیا تب پولیس سٹیشن کے باہر اطلاعات کے مطابق ایک بڑا ہجوم جمع تھا جو ‘قادری بنو‘ کے نعرے لگا رہا تھا۔ ممتاز قادری نے تین سال قبل سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو توہین رسالت کے قانون پر نظرثانی کا مطالبہ کرنے پر اسلام آباد میں قتل کر دیا تھا۔ گو ممتاز قادری جیل میں ہے لیکن حمایتی اسے ہیرو سمجھتے ہیں اور غازی ممتاز قادری کہتے ہیں۔

شاید اسی لیے ڈاکٹر مسعود جنہیں سخت پہرے میں رکھا گیا ہے کہتے ہیں کہ انہیں ’خطرہ جیل کے اندر نہیں بلکہ باہر ہے۔‘

ان کے کیس کی سماعت کے دن عدالت کے باہر ایسے لوگوں کا مجمع موجود ہوتا ہے جس سے ڈاکٹر مسعود کو خدشہ ہے کہ مقدمے کی سماعت کرنے والے جج پر دباؤ پڑتا ہے۔

ڈاکٹر مسعود کے وکلا نے دو بار ان کی ضمانت کی درخواست دی ہے جس میں ان کی عمر اور بیماری کی وجہ سے ان کی ضمانت پر رہائی کی درخواست دی گئی ہے لیکن دونوں بار ان کی ضمانت کے لیے غیر مناسب وجوہات‘ کہہ کر مسترد کر دی گئی۔

ڈاکٹر مسعود نے برطانوی سفارت خانے سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک شفاف مقدمے کی سماعت کے لیے ان کی مدد کریں۔ ’آخر میرا جرم کیا ہے میں نے کسی کو مارا نہیں نہ ہی چوری یا ڈکیتی کی ہے۔‘

ڈاکٹر مسعود کی آسٹریلیا میں رہنے والی بیٹی صوفیہ احمد برطانوی سفارت خانے اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ اپنے والد کی مدد کر سکیں۔

Image caption ممتاز قادری کو پاکستان کے کچھ حلقوں میں ہیرو مانا جاتا ہے

سکائپ پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بی بی سی سے کہا ‘میرے والد کینسر کے مرض سے شفایاب ہو رہے ہیں اور وہ اب بھی بیمار ہیں اور انہیں ادویات کی ضرورت ہے اور ہم ان کے لیے بہت فکر مند ہیں۔‘

جماعت احمدیہ کے مطابق اس سال کے دوران بیس سے زیادہ کیس احمدیوں کے خلاف درج کیے گئے جبکہ دوسرے واقعات اور ہلاکتیں علیحدہ ہیں۔

ان میں سے کئی افراد اب بھی زیر حراست ہیں جن میں سے بعض کی ضمانت سپریم کورٹ تک سے مسترد کی جا چکی ہے۔

ڈاکٹر مسعود فیصلے کے منتظر ہیں مگر انہیں نظام سے انصاف کی توقع شاید کم ہے۔ ‘ایک زمانے میں اقلتیوں کے ساتھ زیادتیوں کا پڑھا کرتا تھا اور آج میں انہیں خبروں کا موضوع ہوں۔‘

اسی بارے میں