شکریہ جناح، ہم شرمندہ ہیں جناح

Image caption پچیس دسمبر قائداعظم محمد علی جناح کی تاریخِ پیدائش ہے

پاکستان میں 25 دسمبر کا دن پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی پیدائش کی مناسبت سے منایا جاتا ہے مگر اس کے علاوہ یہ عیسائیوں کے مذہبی تہوار کرسمس کی وجہ سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔

کرسمس اور عیسائی جب آپ کے ذہن میں آئیں تو پھر جوزف کالونی اور پشاور کے چرچ میں ہونے والا دھماکہ بھی آپ کے ذہن میں آتا ہے اور پھر اس کے نتیجے میں شرمندگی، غصہ، خجالت اور شاید دکھ اور تکلیف جیسے جذبات کا سامنے آنا بہت عام ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر ایسے تمام خیالات کو بہت جلد لوگوں کے سامنے لاتی ہے اور جب ہزاروں افراد ایک ہی موضوع یا ہیش ٹیگ استعمال کر کے اپنا موقف سامنے لاتے ہیں تو ٹرینڈ بنتا ہے۔

پاکستان میں ہزاروں افراد نے بانی پاکستان محمد علی جناح کے حوالے سے دو مخصوص ہیش ٹیگ استعمال کر کے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔

ایک گروہ وہ ہے جو محمد علی جناح کا شکریہ ادا کرنے کی فکر میں ہے کہ انہوں نے پاکستان کے قیام کے مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا جبکہ دوسرا گروہ ان سے شرمندہ ہے۔

یہ فیصلہ کرنا ابھی باقی ہے کہ کیا ان دونوں کے مذکورہ جناح ایک ہی شخصیت ہیں یا دو مختلف جیسا کہ ان ٹرینڈز سے نمایاں ہوتا ہے۔

قاضی نبیل اپنی ٹویٹ میں جناح کا شکریہ ادا کر رہے ہیں ‘شکریہ جناح آپ کی جدوجہد کا اور آپ کی کوششوں سے ہی یہ آزاد اسلامی ریاست بنی۔‘

جبکہ عمر صدیقی شکر گذار ہیں کہ ‘شکریہ جناح کہ آپ نے ہمیں یہ قیمتی خطہ عطا کیا۔‘

پاکستانی ٹینس سٹار اعصام الحق نے ٹویٹ کی کہ ’مجھ سے رفائل ندال نے پوچھا کہ کیا جناح پاکستان کے لیے منڈیلا تھے؟‘

جنید قیصر کی ٹویٹ میں چھپا طنز نظر آیا ’شکریہ جناح ایک کنفیوز پاکستان دینے کا۔‘

اگر شرمندہ ٹویٹس کی فہرست پر نظر ڈالیں تو ان میں بے شمار ایسے ہیں جو بہت ساری وجوہات کی وجہ سے شرمندہ ہیں۔

واجد اعوان ہی کو لیجیے جن کی ٹویٹ ہے ’معذرت کے ساتھ جناح ہم نے پھر غلط آدمی کو ووٹ دے کر منتخب کر لیا۔‘

ایک بڑی تعداد ایسی تھی جو زیارت ریزیڈنسی کی تباہی کی وجہ سے شرمندگی کا اظہار کر رہی تھی کہ ہم شرمندہ ہیں اسے نہیں بچا سکے جبکہ بعض تو اس کا بدلہ لینے کی بات بھی کر رہے تھے۔

یوسف نذر نے ٹویٹ کی کہ ‘جناح ہم شرمندہ ہیں کہ ہم نے بحیثیت قوم آپ کے اوصاف تو نہیں اپنائے مگر تضادات اپنا لیے۔‘

رابیل طارق نے ٹویٹ کی کہ ’ہم شرمندہ ہیں جناح کیونکہ آپ نے ہمیں ایک آزاد ملک تو دیا مگر ہم میں اتنی قابلیت نہیں کہ اس آزادی کو لے کر آگے چل سکیں۔'

فیضان لاکھانی نے ٹویٹ کی کہ ‘ہم شرمندہ ہیں جناح کہ آپ کی بہن کا ایک آمر نے مذاق اڑایا، آپ کی کتاب سنسر کی گئی، آپ کی رہائش گاہ پر حملہ کیا گیا اور آپ کے مزار کی توہین کی جاتی ہے۔‘

جہاں بہت سے افراد اپنے جذبات کا اظہار کر رہے تھے وہیں مختلف سیاسی جماعتوں کے موقف سے قربت رکھتی ٹویٹس جا بجا ملیں جن میں ایک ہی بات بار بار کی گئی تھی جس سے لگتا تھا کہ شاید اس کے پیچھے کسی انسان کی بجائے ایک بوٹ (کمپیوٹر) بیٹھا ہو۔

یہ جناح کا پاکستان ہے جو ماریہ پٹیل، عثمان لطیف، جنید قیصر اور بہت سوں کے بقول ان دونوں ٹرینڈز کی طرح کنفیوزڈ ہے کہ آخر وہ جناح سے شرمندہ ہے یا ان کا شکر گزار ہے۔