لاپتہ افراد:’کمیٹی خفیہ اداروں کے سربراہان کو طلب کرسکتی ہے‘

Image caption پاکستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین ایک عرصے سے احتجاج کر رہے ہیں

جبری گمشدگیوں کےدرینہ اور حساس مسئلہ سے نمٹنے کے لیے نو تشکیل کردہ کمیٹی کو خفیہ اداروں کے سربراہان کو طلب کرنے سمیت لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق سابق حکومت کے دور میں بنائے گئے کمیش سے اس کمیٹی کو زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے اور یہ کمیشن کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کرانے کا پابند ہو گا۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد سے متعلق وزیر دفاع خواجہ آصف کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جبکہ اس کمیٹی کے باقی ارکان میں سیکرٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری قانون اور پاکستان کے اٹارنی جنرل بھی شامل ہیں۔ اس کمیٹی کا نوٹیفکیشن جلد جاری ہونے کا امکان ہے۔

وزارت قانون کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کمیٹی لاپتہ افراد سے متعلق کسی بھی خفیہ ادارے کے سربراہ کو طلب کرنے کی مجاز ہے اور اُن سے لاپتہ افراد سے متعلق پوچھ گچھ بھی کرسکتی ہے۔

سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں لاپتہ افراد سے متعلق سپریم کورٹ کے سینئیر جج جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا گیا تھا جس کو اگرچہ کسی بھی خفیہ ادارے کے سربراہ کو طلب کرنے کا اختیار تو ضرور تھا لیکن اُن کے کہنے پر کسی بھی خفیہ ادارے کا سربراہ کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوا تاہم ماتحت عملہ پیش ہوتا رہا ہے۔

اس کمیشن کے سربراہ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی تشکیل سے لاپتہ افراد کا معاملہ جلد حل کرنے میں مدد ملے گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کیمشن اور کمیٹی کے ارکان میں روابط بڑھیں گے اور ایک ایسا مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا جس سے اس حساس مسئلے کے حل میں مدد ملے گی۔

جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ اس وقت کمیشن کے پاس 800 کے قریب لاپتہ افراد کے مقدمات ہیں اور اُن میں سے 300 ایسے مقدمات ہیں جنھیں سپریم کورٹ نے کمیشن کو چھان بین کے لیے بھیجا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کمیشن کے پاس جبری طور پرگمشدہ افراد سے متعلق جو مقدمات ہیں وہ صوبائی حکومتوں کی طرف سے نہیں بلکہ لاپتہ افراد سے متعلق کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں اور ان افراد کے لواحقین کی طرف سے جمع کروائے گئے شواہد پر مبنی ہیں۔

کمیشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران کمیشن نے جبری طور پر گمشدہ افراد سے متعلق 991 مقدمات کی سماعت کی تھی جن میں سے 316 افراد کو بازیاب کروالیا گیا ہے جبکہ باقی افراد کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ اس عرصے کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے لاپتہ ہونے والے 15 افراد کو بازیاب کروالیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ صوبہ پنجاب میں سے 119 افراد بازیاب ہوئے جب کہ صوبہ سندھ میں 159 جبری طور پرگمشدہ افراد سے متعلق مقدمات کمیشن کو موصول ہوئے جن میں سے 23 افراد کو بازیاب کروایا گیا جن میں سے 23 ایسے مقدمات تھے جو جبری گمشدگی کی کیٹگری میں نہیں آتے۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے مطابق سب سے زیادہ جبری طور پر گمشدگیوں سے متعلق مقدمات صوبہ خیبر پختونخوا میں درج کیے گئے جن کی تعداد 428 ہے جب کہ ان میں سے 123 افراد کو بازیاب کروایا جا چکا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سب سے کم مقدمات صوبہ بلوچستان سے سامنے آئے ہیں جن کی تعداد 47 ہے جن سے سے 11 افراد کو بازیاب بھی کروایا جاچکا ہے جبکہ غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ جبری طور پر گمشدہ ہونے والے سب سے زیادہ افراد کا تعلق صوبہ بلوچستان سے ہے۔

کمیشن کے سربراہ کے مطابق وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں سے جبری طور پر گمشدہ ہونے والے 36 میں سے 14 افراد کو بازیاب کروا لیا گیا جبکہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر سے 23 مقدمات سامنے آئے تھے جن میں سے 11 افراد بازیاب ہوئے۔

جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ جبری طور پر گمشدہ ہونے والے افراد سے متعلق جب بھی کمیشن کا اجلاس ہوتا تھا تو اُس میں خفیہ اداروں کے اہلکار بھی موجود ہوتے تھے۔

اسی بارے میں