2013: بے روزگاری، مہنگائی اور توانائی کا بحران

Image caption سال 2013 پاکستانی معشیت اور عوام دونوں ہی کے لیےکٹھن رہا

پاکستان میں سنہ 2013 اقتدار کی منتقلی کا سال تھا ملک کی ایک جمہوری حکومت بے شمار مسائل میں گھِری ملکی معشیت کی باگ ڈور دوسری حکومت کو تھما رہی تھی۔

ویسے پپیلزپارٹی کی اتحادی حکومت کے پانچ برسوں میں عوام کو نہ تو بجلی کی لوڈشیڈنگ سے چھٹکارا ملا اورنہ ہی معشیت کا کند پہیہ رواں ہوا سکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بےروزگاری اور مہنگائی پاکستانی عوام کا مقدر رہا۔

گیارہ مئی کے انتخابات میں تبدیلی کے عزم نے عوام کے دلوں کو گرمایا۔ اقتصادی تجزیہ کار ڈاکٹر عابد سلہری کہتے ہیں کہ انتخابات میں عوام نے دو تین وجوہات کی بنا پر سیاسی جماعتوں کو چننے یا نہ چننے کا فیصلہ کیا۔

’توانائی کا بحران، مہنگائی، کرپشن اور امن وامان یہی وہ عوامل تھے جو انتخابی نتائج پر اثرانداز ہوئے ‘

مسلم لیگ نواز کی نومولود حکومت کو کرسیِ اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد یعنی جون میں مالی سال 2014-2013 کےلیے بجٹ کا اعلان کرنا پڑا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے معشیت کی حالت زار بیان کرتے ہوا کہا کہ پاکستان کا بجٹ خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے اور یہ خام ملکی پیدوار کا تقریباً نو فیصد یعنی دو ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ صورت حال میں بہتری کے لیے ٹیکسوں سے زیادہ آمدن حاصل کرنا ہو گی۔

مالی سال 2014-2013 کے بجٹ میں ضروریات زندگی کی عام اشیا سمیت تمام چیزوں پر سیلز ٹیکس 16 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کر دیا گیا جس سے مہنگائی بڑھی۔

حکومت کے ابتدائی دنوں ہی میں بیرونی ادائیگیوں اور وصولیوں میں عدم توازن سے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہونے لگے جس سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر پر دباؤ بڑھا اور ستمبر میں ایک ڈالر جو 104 روپے کا تھا بڑھ کر 112 روپے تک پہنچ گیا۔

گو حکومت اور مرکزی بینک نے کوڑیوں کی صورت اختیار کرتی ماند روپے کی قدر کو سنبھالا دینے کی کوشش کی اور چند ہی دن میں ڈالر 108 پر ٹریڈ ہونے لگا۔

تجزیہ کار ڈاکٹر قیصر بنگالی روپے کی گرتی ہوئی قدر کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ درآمدی اشیا پر انحصار کرنے والے ممالک کی کرنسی دباؤ میں رہتی ہے۔

انھوں نے کہا ’پاکستان اگر ایک ڈالر کی کوئی چیز برآمد کرتا ہے تو ایک ڈالر نوے سینٹس کی درآمد کرتا ہے۔ درآمدی بل کا پچیس فیصد خام تیل پر مشتمل ہے کیونکہ بجلی بھی مہنگے فرنس آئل سے پیدا ہو رہی ہے اور سامان کی نقل وحمل بھی ٹرکوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ ایسے میں زرمبادلہ کے ذخائر تو کم ہوں گے ہی‘

مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا سلسلہ نہ رک سکا اور حکومت کو دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لیے ایک بار پھر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔

قرض کے حصول کے لیے ابھی بات چیت ہو ہی رہی تھی کہ سٹیٹ بینک کے ذخائر تین ارب چالیس کروڑ ڈالر کی کم ترین سطح پر آ گئے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے اِس شرط پر چھ ارب 70 کروڑ ڈالر کا قرض منظور کیا کہ وہ معیشت میں اصلاحات کے لیے تیار رہے۔

قرض تو ملا لیکن شرائط سخت تھیں۔ تجزیہ کار ڈاکٹر عابد سلہری کہتے ہیں ’اپوزیشن میں رہ کر یہ کہنا آسان ہوتا ہے کہ ہم کشکول توڑ دیں گے لیکن حکومت چلانے کے لیے مختلف وثرن چاہییں جب بھی آئی ایم ایف قرض دیتا ہے تو اصلاحات کا بھی کہتا ہے۔ جیسے ابھی سٹیٹ بینک کو کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کرنے سے روکا گیا۔ پھر آئی ایم ایف نے کہا کہ بجلی کی چوری کو روکا جائے، سبسڈی ختم کی جائے لیکن ان تمام اصلاحات سے غریب طبقہ بری طرح متاثر ہوتا ہے اور حکومت کو دیوار سے لگے اِس طبقے کو تحفظ دینا ہے‘۔

تجزیہ کار قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ ہمیں درآمدی فرنس آئل کے بجائے اپنے وسائل برؤےکار لاتے ہوئے کوئلے سے بجلی پیدا کرنا ہو گی۔ سامان کی نقل و حمل کے لیےٹرکوں کے بجائے ریل نیٹ ورک کوفعال کرنا ہے ۔

’سب سے اہم یہ کہ روپے کی قدر مستحکم کریں تاکہ مہنگائی کم ہو اور ٹیکسوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے مزید لوگوں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔‘

مہنگائی، بحلی کی قیمتوں میں اضافہ، گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ روپےکی غیر مستحکم قدر اورنتیجتاً افواہوں کاگرم بازار سال 2013 پاکستانی معشیت اور عوام دونوں ہی کے لیےکٹھن رہا لیکن اقتصادی ماہرین کے مطابق ملک کی معاشی ترقی کے لیےضروری ہےکہ حکومت روزانہ کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے بجائے بروقت سخت اور اہم فیصلہ کرے جو کہ ملک کی بہتری میں ہوں نہ کہ چنداہم شخصیات کوخوش کرنےکےلیے۔

اسی بارے میں