بلوچستان میں سکیورٹی گروپوں کو غیر مسلح کرنے کا فیصلہ

Image caption بلوچستان میں سکیورٹی اداروں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھائی جاتی رہی ہے

وفاقی حکومت نے بلوچستان میں اُن گروپوں اور گروہوں کو غیر مسلح کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو سابق حکومت نے نہ صرف سکیورٹی کے نام پر قائم کیے بلکہ اُنھیں اسلحہ بھی فراہم کیا گیا تھا۔

وزارتِ داخلہ کے ذرائع کے مطابق اس ضمن میں سکیورٹی اداروں کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے اور ایسے گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے سے متعلق بھی جلد فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ فیصلہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے درمیان جمعے کے روز ہونے والی ملاقات میں کیا گیا ہے۔

حکومتی سطح پر یہ فیصلہ کرنے سے پہلے خفیہ ادراوں کی رپورٹوں کو بھی پیش نظر رکھا گیا تھا۔ ان رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر سرکاری سرپرستی میں قائم ہونے والےان گروہوں پر قابو نہ پایا گیا تو بلوچستان میں امن وامان کی صورت حال نہ صرف مزید خراب ہوگی بلکہ ان گروہوں میں شامل افراد حکومت کی عمل داری کو بھی چیلنج کرسکتے ہیں۔

ان رپورٹوں میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ان گروہوں کے ارکان غیر قانونی سرگرمیوں میں حد سے زیادہ متحرک ہیں اور انھیں روکنا بہت ضروری ہے۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق دورِ حکومت نے علیحدگی پسند اور شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے ’محبِ وطن،‘ اور ’عوام دوست‘ کے نام سے گروہ تشکیل دیے گئے تھے جنھیں اس ضمن میں خصوصی کارڈ بھی جاری کیے گئے تھے جسے دکھانے پر نہ تو اُنھیں پولیس اور سیکورٹی فورسز کے ناکوں پر روکا جاتا تھا اور نہ ہی اُن کے خلاف کسی بھی تھانے میں کوئی مقدمہ درج کیا جاتا تھا۔

حکومتی اداروں کا دعوی تھا کہ ان گروہوں کی تشکیل سے صوبے میں علیحدگی پسندوں کی کارروائیاں روکنے میں مدد ملی تھی اور ان گروہوں کی تشکیل کا مقصد علاقے سے لوگوں کے دلوں سے علیحدگی پسندوں کے خوف اور اُن کی اجارہ داری کو ختم کرنا تھا۔

وزارتِ داخلہ کے ایک اہل کار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ خضدار کے علاقے میں شفیق مینگل نامی شخص ایسے ہی گروہ کی سرپرستی کرتا ہے جس نے علیحدگی پسندوں کو اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔

وزارتِ داخلہ کے ذرائع کے مطابق ان گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے لیے جو حکمت عملی بنائی گئی ہے اُس کے مطابق ان گروہوں میں شامل افراد کو جاری کیے جانے والے کارڈ مرحلہ وار منسوخ کیے جارہے ہیں جب کہ دوسرے مرحلے میں ان افراد کو دیا جانے والا اسلحہ بھی واپس لے لیا جائے گا اور ایسا نہ کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

سابق حکومت کے دور میں بلوچستان میں اُن قبائل اور گروہوں کو بھی اسلحہ فراہم کرنے کے بارے میں اطلاعات آتی رہی ہیں جو حکومتی عمل داری پر یقین رکھتے تھے۔

چوہدری نثار علی خان اور ڈاکٹر عبدالمالک کے درمیان ملاقات میں بلوچستان میں تمام سیاسی اور غیر سیاسی گروہوں کے ساتھ مذاکراتی عمل کو تیز کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے وزیر اعلیٰ کو بلوچستان میں امن وامان کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔

اسی بارے میں