طالبان کے خلاف جنگ اور عملی سیاست میں آنے کا اعلان

Image caption بلاول بھٹو زرادی کی تقریر نے ناقدین کو تبصرہ کرنے ہر مجبور کر دیا

بے نظیر بھٹو کی چھٹی برسی کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک انتہائی جوشیلی، جذباتی اور جارحانہ تقریر کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو کے تینوں سیاسی وارثوں کے عملی سیاست میں آنے اور طالبان کے خلاف جہاد کرنے کا اعلان کیا۔

گڑھی خدا بخش میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگلے انتخابات سے قبل بے نظیر کے تینوں بچے عملی سیاست میں حصہ لیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انھیں معلوم ہے کہ وہ جس راستے پر گامزن ہیں اس پر قدم قدم پر موت ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی قبروں کے قریب تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شہادت اور گڑھی خدا بخش ان کی منزل ہے۔

انھوں نے پیپلز پارٹی کی طرف سے طالبان سے مذاکرات کے لیے انتہائی کڑی شرائط پیش کیں۔ جن میں طالبان سے ہتھیار پھینکے، دہشت گردی میں ہلاک ہونے والوں کا خون بہا دینے اور میثاق مدینہ کی طرح اقلیتوں کی عزت اور احترام کرنے کی بات کی۔

بلاول بھٹو کے اس خطاب میں ذوالفقار علی بھٹو کا انداز اور بے نظیر بھٹو کا لہجہ جھلک رہا تھا لیکن حیران کن طور پر ان کی اردو میں بھی بڑی روانی دیکھنے میں آئی۔ بلاول نے پوری تقریر میں سیاسی نعروں اور شعروں کا بڑا برمحل اور بڑا برجستہ استعمال کیا۔

Image caption بے نظیر کی برسی پر لاہور میں بھی ریلی نکالی گئی

بلاول بھٹو کی تقریر میں ایک طرف تو سیاسی مخالفین کو شدید تنقید اور خاص طور پر طالبان سے مذاکرات کرنے کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تو دوسری طرف انھوں نے پیپلز پارٹی کے روایتی کارکنوں اور جیالوں میں پائی جانے والی مایوسی کو دور کرنے کی کوشش کی۔

انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کسی جاگیردار، سرمایہ دار، کھلاڑی یا ملا کی جماعت نہیں ہے بلکہ عوام کی جماعت ہے۔ ’پیپلز پارٹی ایک جذبہ ہے، جنون ہے اور روایت ہے۔‘

انھوں ے کہا کہ روایتیں بدلا نہیں کرتیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ جھوٹ ہے کہ پیپلز پارٹی بدل گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سورج مغرب سے نکل سکتا ہے لیکن پیپلز پارٹی جیالے کے دل سے نہیں نکل سکتی۔

حکمران مسلم لیگ ن کی طالبان سے مذاکرات کی پالیسی پر انھوں نے کڑی تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ نواز شریف اور طالبان کا نظریاتی خالق ضیاالحق تھا۔

تحریک انصاف کی سوچ پر حملہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مسئلہ دھرنوں اور لانگ مارچوں سے ختم ہونے والا مسئلہ نہیں ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ بچوں کا کرکٹ کا کھیل نہیں جو جادو کے بلے سے حل کر لیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ چار لوٹوں میں پانی ڈال کر سونامی نہیں لائی جا سکتی۔

انھوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اس مسئلہ کو ختم کرنے میں کئی نسلیں لگ جائیں گی۔ اس موقع پر انھوں نے ’دہشت گردوں کا جو یار ہے وہ غدار ہے غدار کا نعرہ لگایا۔‘

انھوں نے کہا کہ دہشت گردی اگر قوم کے نام پر کی جائے تو قوم کو بدنام کردیتی ہے، اگر ملک کے نام پر کی جائے تو ملک کو بدنام کردیتی ہے، اگر ریاست کے نام پر کی جائے تو ریاست کو بدنام کر دیتی ہے اور اگر مذہب کے نام پر کی جائے تو مذہب کو بدنام کر دیتی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے روائتی نعرہ روٹی کپڑا اور مکان کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے اس میں علم، روشنی اور کام کا بھی اضافہ کر دیا۔

انھوں نے کہا کہ ان کے سامنے ایک ہی راستہ ہے وہ ہے خوشحال اور پرامن پاکستان کا راستہ، دہشت گردی سے نجات کا راستہ۔ انھوں نے کہا کہ اگر اس وقت ’ان ظالموں کے سامنے صرف پاکستان پیپلز پارٹی کھڑی ہے۔‘

گذشتہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی ناکامی پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پنجابی اسٹیبلشمنٹ پارٹی کے خلاف متحدہ ہو چکی تھی۔

وزیر اعظم نواز شریف پر ایک طرف تو بلاول بھٹو نے سخت تنقید کی لیکن دوسری طرف انھوں نے کہا کہ اگر جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کی تو وہ اس کے خلاف نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

اسی بارے میں