بلاول نے کشتیاں جلا دیں؟

Image caption بلاول کی اردو پہلے سے کہیں زیادہ رواں ہو گئی ہے، اور تو اور انھوں نے دورانِ تقریر شعر بھی پڑھے

سادہ شلوار قمیض، کھلے کف، اترتی چڑھتی آواز، ذوالفقار علی بھٹو کی ادائیں، بلاول بھٹو نے آج اپنے نانا کا انداز اپنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

ادھر ان کا لہجہ بےنظیر بھٹو کی یاد دلاتا رہا۔ انھوں نے اپنے والد کی تعریفیں کیں اور بہنوں کی طرف سے ملک و قوم کی خدمت کے وعدے کیے۔ بلاول بھٹو زرداری آج اپنی تمام تر سیاسی وراثت لیے عوام کے سامنے کھڑے تھے۔

بلاول نے آج پاکستان کے سیاسی پس منظر کو کس کس رنگ میں رنگا اس کی تعریف بھی ہو گی اور اس پر تنقید بھی۔ مگر بنیادی طور پر تو انھوں نے پیپلز پارٹی کا وہی موقف دہرایا ہے جو یہ پارٹی انتخابات سے پہلے سے کہہ رہی ہے۔

انھوں نے جمہوریت کے استحکام کے لیے انکل میاں نواز شریف کا ساتھ دینے کی بات بھی کی اور انھیں شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

نجکاری کی مخالفت سے لے کر تونائی کا بحران جیسے موضوعات پر بھی گرجے۔ شدت پسندوں کو ایک واضح انداز میں کافر قرار دیا اور عمران خان کو بزدل خان پکارتے ہوئے کہا کہ طالبان کی حمایت کے بہانے نہ ڈھونڈو۔

ہاں ان کی اردو پہلے سے کہیں بہتر تھی۔ روانی بھی تھی، شعر بھی پڑھے۔ اور ملک کے شدت پسند عناصر کو تو جیسے مقصد ہی للکارنا تھا۔ ایک بات جس کی داد ضرور دوں گا، تقریباً ایک گھنٹے تک اس ہمت کے ساتھ بولتے رہنا۔ یہ تو شاید بہترین مقرر بھی نہ کر سکیں۔

کارکنان کی ناراضگی اور اپنے وزرا کی غلطیوں کا اعتراف بھی کیا مگر لبِ لباب وہی پنجابی اسٹیبلشمنٹ کی سازشیں اور ضیا الحق کے دیے زخم۔

پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دورِ حکومت کی پر جب نظر دوڑائی تو صرف یہ کہ صدر زرداری ایوانِ صدر میں قیدی بنا دیے گئے تھے۔ شاید اندازِ بیان میں قدرے پاکستانی سیاست کا رنگ آنے لگا ہے: ’کہاں ہیں مینارِ پاکستان کے نیچے بیٹھے پنکھے جھلنے والے جو بجلی کے وعدے کرتے تھے۔۔۔ چار لوٹوں میں پانی ڈالنے کو سونامی نہیں کہتے۔‘

بات یہ نہیں کہ ان کے لگائے گئے الزامات میں وزن ہے یا نہیں، عندیہ یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری بالکل اسی سوچ کو لے کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں جس کی پیپلز پارٹی سے توقع کی جاتی ہے۔ کیا پاکستانی عوام کو معلوم ہے کہ اس پر خوش ہونا ہے یا اداس؟

سیاسی اعتبار سے یہ تقریر کیسی تھی، یہ تو وقت ہی بتا سکے گا۔ مگر اس سے جو بات ابھر کر سامنے آتی ہے وہ یہ ہےکہ چاہے بلاول کی اردو میں روانی ہو نہ ہو بات اب اس سے آگے نکل گئی ہے، اور چاہے انھیں پاکستانی سیاست کی باریکیوں کو پرکھنا آتا ہو یا نہ آتا ہو، وہ میدان میں اترے کشتیاں جلا کر ہیں۔

میدان مار پائیں گے یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

اسی بارے میں