ڈیڑھ سالہ بچی کی تدفین سے انکار

پاکستان میں احمدی برادری کے ایک قبرستان کی فائل تصویر
Image caption مقامی احمدی آبادی کے مطابق جس گاؤں کے قبرستان میں یہ تنازعہ ہوا ہے وہاں ابھی دو سو زیادہ قبریں احمدیوں کی ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے شہر گوجرہ کے قریب ایک گاؤں کتھووالی میں 19 دسمبر کو ایک ڈیڑھ برس کی بچی کی لاش کو مقامی افراد نے دفن کرنے سے روک دیا۔

اس بچی کا تعلق جماعت احمدیہ سے تھا جس سے تعلق رکھنے والے افراد پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق غیر مسلم کہلائے جاتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اس بچی کی وفات جمعرات 19 دسمبر کی شام ہوئی اور جمعہ 20 دسمبر کی صبح ان کی تدفین کے لیے مقامی احمدیہ جماعت کے اراکین ان کی لاش کو گاؤں کے مشترکہ قبرستان میں لے کر گئے مگر وہاں پچاس کے قریب افراد لاٹھیاں لے کر کھڑے تھے جنہوں نے لاش کی تدفین کرنے سے روک دیا۔

ان لاٹھی بردار افراد کا موقف تھا کہ چونکہ یہ بچی احمدی ہے اور احمدی غیر مسلم ہوتے ہیں اس لیے اسے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ چک نمبر 312 کتھووالی میں احمدی اور مسلمان آبادی دہائیوں سے اکٹھے رہ رہے ہیں۔

اس گاؤں میں احمدیوں اور مسلمانوں کی زمنیں ہیں اور آبادی کے تناسب کے حساب سے گاؤں میں ایک مشترکہ قبرستان بنایا گیا جس کے لیے زمین احمدی اور مسلمان برادری دونوں نے عطیہ کی ہے اور اس میں مقامی مسلمان اور احمدی اب تک دفن ہوتے آئے ہیں۔

مقامی احمدی آبادی کے مطابق اس قبرستان میں اب بھی دو سو سے زیادہ قبریں احمدیوں کی ہیں اور یہاں تدفین کے حوالے سے 1974 اور اس کے بعد جنرل ضیا کے دور کے دوران بھی کبھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے کہا کہ ’سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک مشترکہ قبرستان ہے جس کے لیے زمین احمدیوں اور غیر احمدیوں کے تناسب سے تقسیم کی گئی ہے اور دونوں نے عطیہ کی ہے تو احمدی اگر اس قبرستان میں اپنے مردے نہ دفنائیں تو پھر کہاں لے کر جائیں؟‘

مقامی آبادی میں تدفین پر تنازعے کے دوران پولیس نے مداخلت کی مگر اس سے بھی مسئلہ حل نہیں ہوا کیونکہ پولیس بچی کی قبرستان میں تدفین کروانے میں ناکام رہی۔

اس سارے بحث مباحثے میں ایک مقامی مسلمان زمیندار جن کی زمین قبرستان کے بالکل ساتھ ہے اور جنہوں نے اس مشترکہ قبرستان کے لیے اپنی زمین عطیہ بھی کی تھی نے کہا کہ بچی کی تدفین ان کی زمین میں کر دی جائے جس پر احمدیوں نے ان کی زمین میں تدفین کر دی۔

جب ڈی سی او ڈاکٹر فرح چوہدری سے اس حوالے سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر فرح چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے علم میں یہ بات ہے ہی نہیں، میں یہ جانتی ہی نہیں۔ میں اس وقت سفر کر رہی تھی ابھی لاہور پہنچی ہوں۔ میں پتا کرتی ہوں۔ میرا خیال نہیں کہ ایسا کوئی بھی مسئلہ ہے جیسا آپ کو بتایا گیا ہے۔‘

ڈاکٹر فرح نے بھی مقامی قبرستان کے مشترکہ ہونے کی بات کی تصدیق کی اور بتایا کہ ’ان کا تدفین کا قطعاً کوئی بھی ایشو نہیں ہوا ہمیشہ اکٹھے ہی ان کے قبرستان ہوتے ہیں۔‘

جب ڈاکٹر فرح کو بتایا گیا کہ یہ معاملہ تو سب کو پتا ہے حتیٰ کے ان کے مقامی اسسٹنٹ کمشنر جن سے بی بی سی کی بات بھی ہوئی اور ایس ایچ او کے علم میں بھی ہے تو ڈاکٹر فرح کا کہنا تھا کہ مجھے اس کی تفصیل حاصل کر لینے دیں۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے کہا کہ ’ اس علاقے میں بعض بیرونی عناصر نے مقامی آبادی کے درمیان نفرت اور تعصب پیدا کیا اور انتظامیہ ہمیشہ کی طرح احمدیوں کو سمجھوتہ کرنے پر مجبور کرتی ہے اور ان پر دباؤ ڈالتی ہے کیونکہ ملا کے سامنے اس کا بس نہیں چلتا ہے۔‘

ڈی سی او ڈاکٹر فرح کا کہنا تھا کہ ’دراصل ہم قادیانی افراد کے بارے میں بہت محتاط ہیں ان کو تکلیف نہیں دی جانی چاہیے۔ ہم نے امن عامہ کا ایک بہت بڑا مسئلہ ختم کیا ہے۔‘

ڈاکٹر فرح کا اسرار ہے کہ ’وہاں تو ہر روز ایسی باتیں ہوتی رہتی ہیں یہ تو جہاں پر دو گروہ اکٹھے رہیں گے تو مسائل تو ہونگیں نا۔ ہم نے ایک بڑے مسئلے کو بخیر و خوبی حل کیا ہے۔‘

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسئلہ کیا واقعی حل ہو گیا یا اگلے احمدی کی تدفین تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں