راولپنڈی:فائرنگ سے امام بارگاہ پر تعینات دو اہلکار ہلاک

Image caption واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں فائرنگ سے امام بارگاہ کے باہر تعینات دو پولیس اہلکار ہلاک اور تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کو شہر کے مصروف علاقے ڈھوک سیداں میں پیش آیا۔

پولیس اہلکار محمد اشرف نے بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم حملہ آوروں نے قصرِ شبیر نامی امام بارگاہ کی حفاظت پر تعینات چار پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی۔

اہلکار کے مطابق فائرنگ سے وہاں موجود دو پولیس اہلکار محمد عمران اور ظہیر عباس موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے ایک راہ گیر سمیت تین افراد زخمی بھی ہوئے جنھیں فوری طبی امداد کے لیے فوجی ہسپتال میں داخل کروایا گیا ہے جہاں دو کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

نامعلوم مسلح افراد فائرنگ کے بعد جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی تاہم اس ضمن میں پولیس کو ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ملی۔

Image caption راولپنڈی میں عاشورۂ محرم کے جلوس کے دوران فرقہ وارانہ تصادم میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے

خیال رہے کہ قصرِ شبیر وہی امام بارگاہ ہے جس کے قریب گزشتہ برس محرم الحرام کے دوران ہونے والے خودکش حملے میں 18 افراد مارے گئے تھے۔

راولپنڈی میں اس برس عاشورۂ محرم کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی کی وجہ سے حالات انتہائی کشیدہ رہے ہیں۔

دس محرم الحرام کے جلوس کے دوران فرقہ وارانہ تصادم میں جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس کے بعد 18 دسمبر کو شہدائے کربلا کے چہلم سے قبل ایک خودکش حملہ آور نے شہر میں گریسی لین کے علاقے میں ایک امام بارگاہ کے نزدیک ناکے پر دھماکہ کیا تھا جس میں پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد مارے گئے تھے۔

اسی فرقہ وارانہ کشیدگی کی وجہ سے چہلم کے موقع پر بھی شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور جلوس کی فضائی نگرانی بھی کی گئی تھی۔

اسی بارے میں