تین ’غیر معیاری‘ میڈیکل کالج بند

Image caption جن کالجوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اُن میں زیر تعلیم طلبہ کو دیگر کالجوں میں تقسیم کر دیا جائے گا

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار طب کی تعلیم دینے والی درس گاہوں کی نگرانی کرنے والے ادارے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے ملک کے تین مختلف کالجوں کو معیار کے مطابق طبی تعلیم نہ دینے پر بند کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

حکم نامے کے مطابق دیگر آٹھ کالجوں کو بھی مزید داخلے دینے سے روکنے کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے صدر اور ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمید نے بی بی سی کو بتایا کہ اِس کے علاوہ مزید آٹھ سے دس میڈیکل اور ڈینٹل کالج ایسے ہیں جن پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اِس سلسلے میں معائنے کا عمل جاری ہے اور جن کالجوں کا معائنہ مکمل ہو گیا ہے اُن پر پابندی کا حُکم جاری کر دیا گیا ہے۔ پابندی کا سامنا کرنے والے کالجوں کے طلباء کی رجسٹریشن بھی نہیں ہو سکے گی۔

پروفیسر مسعود حمید نے بتایا کہ یہ فیصلہ پی ایم ڈی سی کے ایک اجلاس میں کیا گیا جس کی منظوری کونسل کے تمام ممبران سے لی گئی ہے۔

اِس فیصلے کے مطابق الرازی میڈیکل کالج پشاور، ساہیوال میڈیکل کالج اور حشمت میڈیکل کالج گجرات کو بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وہ کالج جن پر مزید داخلے کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے اُن میں بن قاسم کالج کراچی، بھٹائی میڈیکل کالج، فیڈرل میڈیکل کالج اسلام آباد، انڈی پینڈنٹ میڈیکل کالج فیصل آباد، ایبٹ آباد انٹرنیشنل میڈیکل کالج برائے خواتین، ایبٹ آباد ریڈ کریسنٹ میڈیکل کالج، محی الدین میڈیکل کالج اسلام آباد اور آزاد جموں کشمیر میڈیکل کالج شامل ہیں۔

اِس کے علاوہ علامہ اقبال کالج اور خیبر کالج برائے خواتین کے تدریسی عملے کے اندراج کے لیے اِن دونوں کالجوں کے بارے میں ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

پروفیسر مسعود حمید نے بی بی سی کو بتایا کہ اِن کالجوں کے علاوہ مزید آٹھ سے دس کالجوں کے خلاف تادیبی کارروائی کا امکان ہے تاہم کوئی بھی فیصلہ معائنہ مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

کالج آف فزیشن اینڈ سرجنز پاکستان (پی ایس پی سی) کی جانب سے پی ایم ڈی سی میں بد عنوانیوں کے الزامات پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں پروفیسر مسعود حمید کا کہنا تھا: ’نجی میڈیکل کالجوں کے مفادات بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔ میرے عہدہ سنبھالنے سے قبل اِس ادارے میں خاصی کرپشن تھی۔ ہم نے خود آڈٹ کرا کے قومی احتساب بیورو میں کیسز بھیجے ہیں۔ تقریباً آٹھ سے دس کیسز ہیں اور 90 کروڑ روپے کی بد عنوانی کی گئی ہے۔ ملزمان میں ادارے کے رجسٹرار بھی شامل ہیں۔‘

جن کالجوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اُن میں زیر تعلیم طلبہ کو دیگر کالجوں میں تقسیم کر دیا جائے گا جبکہ ایسے کالج جنھیں مزید داخلے دینے سے روکا گیا ہے، وہ اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں گے اور اپنے معیار کو بہتر بنائیں گے تاکہ اُن پر مزید داخلے نہ کرنے کی پابندی ختم کی جا سکے۔

پاکستان میں کل 130 سرکاری اور نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالج قائم ہیں جن کے معائنے میں تقریباً دو سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ ماضی میں شکایات موصول ہوتی رہی ہیں کہ پی ایم ڈی سی بدعنوانی کر کے با اثر افراد کو نجی میڈیکل کالج کھولنے کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیتی ہے جو اپنی مرضی کی فیس وصول کرتے ہیں اور اُن کے تدریسی عملے میں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ استاتذہ بھی شامل نہیں ہوتے۔

پاکستان میں پہلی بار نگراں ادارے نے طبی تعلیم دینے والے اداروں کو غیر معیاری تعلیم، تدریسی عملے کی عدم فراہمی اور سہولیات نہ ہونے کی بنا پر سزائیں دی ہیں۔

اسی بارے میں