’پنجاب میں نئی حلقہ بندیاں غیرقانونی‘

Image caption عدالت نے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے رہائشی اقرار حسین کی درخواست کی سماعت کی

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں نئی حلقہ بندیاں غیرقانونی قرار دیتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے لیے صوبے میں نئی حلقہ بندیاں کی جائیں۔

پنجاب حکومت نے اس فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے خلاف نظرثانی کی اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق نئی حلقہ بندیوں کو ازسرِ نو حتمی شکل دینے میں کئی ماہ تک کا عرصہ لگ سکتا ہے جس سے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد فی الحال غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

جسٹس سید منصور علی شاہ کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی فل بنچ نے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے رہائشی اقرار حسین کی درخواست کی سماعت کی۔

اس درخواست میں حلقہ بندیوں سے متعلق شکایتوں کے فیصلے سے پہلے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو موخر کروانے کی استدعا کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ ان شکایتوں کے ازالے کے بغیر انتخابات کا انعقاد غیر آئینی اور غیر قانونی اور بنیادی حقوق کے منافی ہے۔

منگل کو عدالت میں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی شق آٹھ اور نو پر بحث کی گئی جن کے تحت حلقہ بندیوں میں تبدیلی کا اختیار ایگزیکٹو کو دیا گیا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل ایڈوکیٹ اظہر صدیق کے مطابق عدالت کو بتایا گیا کہ حلقہ بندیوں کا عمل نو اکتوبر کو شروع کیا گیا اور اسے چار نومبر تک مکمل کر لیا گیا۔

عدالت میں حکومت کے جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ نئی حلقہ بندیاں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ دو ہزار تیرہ کے تحت کی گئی ہیں اور اس قانون کے شق دس اے کے مطابق انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد اب نئی حلقہ بندیوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ہے ۔

تاہم تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ عدالت کی جانب سے حلقہ بندیوں سے متعلق حکومت کے اختیار کو غیرقانونی قرار دیے جانے کے بعد ان اختیارات کے تحت کی گئی حلقہ بندیاں بھی غیرقانونی ہو گئی ہیں اور نئی حلقہ بندیوں کی صورت میں تیس جنوری کو بلدیاتی انتخاب ممکن نہیں۔

پنجاب کے وزیرقانون رانا ثنا اللہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عدالت کے فیصلے کا احترام کرتی ہے اور اسے تسلیم کرتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حلقہ بندیوں سے متعلق عدالت کے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل نہیں کی جائے گی اور نئی حلقہ بندیوں کے لیے چھ ماہ تک کا عرصہ درکار ہوگا۔

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی اور ان پر اعتراضات جمع کروانے کے مراحل مکمل ہونے کے بعد صوبے میں کاغذات کی جانچ پڑتال کا سلسلہ جاری تھا۔

پنجاب کی چار ہزار اٹھائیس یونین کونسلوں اور ایک سو بہتر میونسپل کمیٹیوں کے لیے ایک لاکہ تریسٹھ ہزار تین سو چوراسی امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے۔

تاہم اب حلقہ بندیوں کو ازسرے نو حتمی شکل تک پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ایک مرتبہ پھر التوا کا شکار ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں