’2013 میں 510 افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا‘

Image caption وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز تنظیم کے اراکین ان دنوں کراچی سے اسلام آباد تک پیدل مارچ کر رہے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز نے سال 2013 کے دوران لاپتہ کیے جانے والے افراد اور تشدد زدہ لاشوں کی بر آمد گی سے متعلق فہرست جاری کردی ہے۔

یہ فہرست تنظیم کے وائس چیئرمین نصراللہ بلوچ نے منگل کی شام ایک پریس کانفر نس کے دوران جاری کی۔

نصراللہ بلوچ کا کہناتھا کہ 2013 کے دوران بھی بلوچستان کے طول و عرض میں انسانی حقوق اور آئین وقانون کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2013 کے دوران بلوچستان سے 510 افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا اور 161 لاپتہ افرادکی تشدد زدہ لاشیں پھینکی گئیں۔ نصراللہ بلوچ نے ان افراد کو لاپتہ کرنے اور لاپتہ کیے جانے والے افراد کی تشدد زدہ لاشیں پھینکنے کا الزام حکومتی اداروں پر عائد کیا۔

ان کا دعویٰ تھا کہ موجودہ حکومت خفیہ اداروں کے اختیارات کو محدود کرنے کی بجائے ان کے غیر آئینی اقدامات کو تحفظ دینے کیلیے تحفظ پاکستان آرڈیننس کے نام سے قانون سازی کررہی ہے جس سے خفیہ اداروں کو مزید اختیارات مل جائینگے۔

انہوں نے اس آرڈیننس کی مخا لفت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس کو اسمبلی سے منظور نہ کرائے کیونکہ مستقبل میں اس کو منظور کر نے والے بھی اس کے زد میں آسکتے ہیں۔

Image caption وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے ماما قدیر اس سے قبل بیس افراد کے ساتھ کوئٹہ سے پیدل چل کر کراچی گئے تھے

نصراللہ بلوچ نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر سیاسی تنظیم ہے جو لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پرامن جدوجہد کررہی ہے مگر ان کا کہنا تھا کہ انصاف دینے کی بجائے انہیں تنگ کیا جارہا ہے۔

انہوں نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

ایک سوال پر تنظیم کے چیئر مین نے کہا کہ بلوچستان سے لاپتہ کیے جانے والے افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے تاہم ان کی تنظیم نے اب تک 2700 افراد کی فہرست مکمل کوائف کے ساتھ تیار کی ہے۔

اسی بارے میں