کراچی: صحافی کے قتل کے خلاف مظاہرہ

Image caption شان ڈھر نامعلوم افراد کی فائرنگ میں لاڑکانہ کے شہر باڈھہ میں 31 دسمبر کی شب ہلاک ہوگئے تھے

کراچی میں ایک مقامی نیوز چینل سے وابستہ صحافی شان ڈھر کے قتل کے خلاف کراچی یونین آف جرنلسٹ اور پریس کلب کے زیر انتظام صحافیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

شان ڈھر نامعلوم افراد کی فائرنگ میں لاڑکانہ کے شہر باڈھہ میں ہلاک ہوگئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق اکتیس دسمبر کی شب لاڑکانہ ضلعے کے شہر باڈھ میں رورل ہیلتھ سینٹر کے باہر شان ڈھر گولی لگنے سے زخمی ہوگئے تھے جنہیں چانڈکا میڈیکل کالج ہپستال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

شان ڈھر کے دوستوں نے پولیس کو بتایا ہے کہ وہ ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ انہیں معلوم ہوا کہ ایک حاملہ عورت کو ہپستال لایا گیا ہے جہاں ڈاکٹر اور دوائیں دستیاب نہیں، وہ فرائض سر انجام دینے وہاں پہنچے تو اسی دوران نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے ہلاک ہوگئے۔

کراچی میں شان ڈھر کی ہلاکت کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں شریک صحافیوں نے شان ڈھر کے قتل میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔

صحافیوں سے کراچی یونین آف جرنلسٹ کے صدر جی ایم جمالی، پریس کلب کے سیکریٹری جنرل عامر لطیف، عاجز جمالی، اے ایچ خانزادہ اور دیگر نے خطاب کیا۔

Image caption کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز سی پی این اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال گیارہ صحافی ہلاک ہوئے جبکہ 2012 میں یہ تعداد سولہ تھی

جی ایم جمالی کا کہنا تھا کہ سال کے پہلے دن کا آغاز صحافی کی ہلاکت کی خبر سے ہوا اور ان کے مطابق اس نوعیت کے واقعات گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہیں۔

جی ایم جمالی نے کہا کہ وہ حکمرانوں، سیاسی، مذہبی اور لسانی جماعتوں پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کتنے بھی ظلم کرلیں لیکن صحافی حق اور سچ دکھانے اور لکھنے سے باز نہیں آئیں گے۔

کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز سی پی این اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال گیارہ صحافی ہلاک ہوئے جبکہ 2012 میں یہ تعداد سولہ تھی۔

یاد رہے کہ دونوں سالوں میں صحافیوں کے قتل میں ملوث اکثر ملزم گرفتار نہیں ہوسکے ہیں۔

سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے صحافی شان ڈھر کے قتل کی تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے۔

نوجوان صحافی شان ڈھر کراچی میں سندھی اور اردو نیوز چینلز کے ساتھ وابستہ رہے حال ہی میں وہ لاڑکانہ منتقل ہوئے تھے۔

اسی بارے میں