اولڈ سلاٹر ہاؤس سے اقلیتوں کی جبری بیدخلی

Image caption گھر سے بے گھر ہونے والا خاندان

دس اکتوبر کا دن تھا، دوپہر کے بارہ بجے تھے کہ یوسف مسیح کے دروازے پر دستک ہوئی۔ ان کی بیگم روبینہ باہر نکلیں تو کچھ نوجوان موجود تھے جن کا مطالبہ تھا کہ ان کے شوہر کو باہر نکالا جائے۔ روبینہ نے انھیں بتایا کہ ان کے شوہر بیمار ہیں اور باہر نہیں آ سکتے۔

روبینہ کے مطابق ایک نوجوان دروازے کو لات مارکر اندر آگیا اور یوسف کو کھینچ کر باہر لے گیا اور کہا کہ بات کرنی ہے۔ ’دس پندرہ منٹ کے بعد فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں اور لڑکوں نے کہا کہ رینجرز آنے والی ہے تمام دروازے بند کر دو۔‘

اپنے آنکھوں سے گرتے ہوئے آنسوؤں کو دوپٹے سے صاف کرتے ہوئے روبینہ نے بتایا کہ جب فائرنگ رکی تو ایک بچہ آیا اور بولا کہ باہر تین لاشیں پڑی ہوئی ہیں جن میں ایک یوسف کی ہے: ’یہ سنتے ہی میں بنا دوپٹے اور چپل کے دوڑ کر پہنچی تو دیکھا یوسف کے سر میں گولی لگی ہوئی تھی۔‘

روبینہ بتاتی ہیں کہ واقعے کے وقت کمپاؤنڈ کا مرکزی دروازہ بند تھا۔ کچرے کے ڈھیر سے تھوڑا سے راستہ تھا جہاں سے تمام نوجوانوں، لڑکیوں اور بچوں نے دوڑ لگائی۔ اس طرح گھنٹوں میں آباد علاقہ خالی ہوگیا۔

اس روز روبینہ شوہر کے ساتھ اپنے گھر سے بھی محروم ہوگئیں۔ اب وہ رشتے داروں کے پاس دو بچوں کے ساتھ رہتی ہیں اور ٹھکانہ نہ ہونے کی وجہ سے کہیں ملازمت بھی نہیں کرسکتیں۔ ان کا شوہر کباڑی کا کام کرتا تھا۔

Image caption اقلیتوں کے لیے انسانی حقوق کمیشن واحد آواز سامنے آئی

لیاری کے علاقے اولڈ سلاٹر ہاؤس سے روبینہ اور ان کے بچے ہی نہیں دو سو سے زائد خاندان نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے جو اس وقت شہر کے مختلف علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

الیکٹرک انجینیئر پیٹر برنارڈ اسی علاقے سے دو مرتبہ کونسلر منتخب ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رینجرز نے ان کی کوئی مدد نہیں کی:

’جب میں لاشیں لے کر ہپستال جارہا تھا تو کچھ عورتوں کو کہا کہ قریبی امن پارک پر موجود رینجرز کی چوکی پر جا کر اطلاع دیں۔ خواتین نے وہاں جاکر بتایا کہ لوگوں کو مارا جارہا ہے اور لڑکیوں کی عزت خطرے میں ہے تو رینجرز نے جواب دیا کہ انھیں اوپر سے حکم نہیں ہے۔‘

کراچی میں متاثرین کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن زہرہ یوسف نے عیسائی اور ہندو خاندانوں کی جبری بےدخلی کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا پولیس اور رینجرز کو شکایت کے باوجود انھیں تحفط فراہم نہیں کیا گیا۔ متاثرہ لوگوں کا کہنا ہے کہ رینجرز کے اشاروں پر ہی انھیں بےدخل کیا گیا ہے۔

زہرہ یوسف کے مطابق ایک عورت کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی بھی رپورٹ سامنے آئی ہے لیکن وہ اس حوالے سے تصدیق نہیں کرسکتیں۔ بقول زہرہ یوسف ’متاثرین کا کہنا ہے کہ رینجرز کی ہدایت پر یہ سب کچھ ہوا۔ اس تشدد کے واقعات میں لیاری کے گینگ ملوث ہیں اور ان سب کا مقصد یہ ہی تھا کہ ان لوگوں سے یہ کمپاؤنڈ خالی کرایا جائے تاکہ وہ اس پر قابض ہوسکیں۔‘

انسانی حقوق کمیشن کے وائس چیئرمین اور کراچی ہندو پنچایت کے صدر امرناتھ ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ اس علاقے میں رینجرز اپنا مقامی ہیڈکوارٹر بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس کی بنیاد یہ ہے کہ 2001 میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے کوشش کی تھی کہ پورے بلاک کو مسمار کر کے پلاٹنگ کی جائے جس کے خلاف انھوں نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

امرناتھ ایڈووکیٹ کے مطابق اس وقت کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد نے تحقیقات کے بعد ایک تفصیلی حکم نامہ جاری کیا تھا کہ یہ عمارت انتہائی مضبوط ہے اس کو مسمار کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا لہٰذا مکینوں سے علاقہ خالی نہ کرایا جائے۔

انسانی حقوق کمیشن کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے متاثرین کی بحالی اور آبادکاری کے کوئی انتظامات نظر نہیں آتے۔ ہندو برادری کے لوگ تو اس قدر خائف ہیں کہ سامنے بھی آنے کو تیار نہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ اقلیتی برادری کے ان متاثرین کی دوبارہ آبادکاری کر کے تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر شہریوں کا اعتماد بحال ہوسکے۔

اسی بارے میں