راولپنڈی:پرویز مشرف ہسپتال میں زیرِ علاج

Image caption سابق فوجی صدر کے خلاف آئین توڑنے کے الزام میں غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے یکم جنوری کو ان پر فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا تھا

غداری کے مقدمے میں پیشی کے لیے سفر کے دوران علیل ہونے والے پاکستان کے سابق فوجی حکمران جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف راولپنڈی میں فوج کے ادارہ برائے امراض قلب میں زیرِ علاج ہیں اور ہسپتال کی جانب سے ان کی صحت کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

جمعہ کو مقامی میڈیا میں پرویز مشرف کی صحت کے بارے میں ذرائع سے خبریں آ رہی ہیں جن میں ان کے مختلف ٹیسٹ کیے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔

گھر، عدالت اور اب ہسپتال سخت سکیورٹی حصار میں: تصاویر

اندازہ نہیں تھا کہ غداری کا مقدمہ چلے گا: مشرف

اس کے علاوہ پرویز مشرف کے ترجمان راشد قریشی سے منسوب کیا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ مشرف کے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کو میڈیا کے سامنے لایا جائے گا۔

پرویز مشرف کو غداری کے مقدمے میں جمعرات کو عدالت میں پیش کیا جانا تھا تاہم عدالت جاتے ہوئے راستے میں ان کی طبیعت خراب ہو گئی اور انھیں راولپنڈی میں’آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی‘ لے جایا گیا۔

جمعرات کو ہسپتال کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اب سابق فوجی صدر کی طبعیت بہتر ہے۔

جمعرات کو ہی پرویز مشرف کی ناسازیِ طبع کی وجہ سے اسلام آباد میں ان کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے ان کی گرفتاری کے احکامات نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

عدالت نے انھیں جمعرات کو بھی حاضری سے استثنیٰ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ چھ جنوری کو آئندہ سماعت پر اس معاملے کو دوبارہ سنے گی۔

سماعت کے دوران خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب کے استفسار پر ڈی آئی جی سکیورٹی جان محمد نے عدالت کو بتایا کہ پرویز مشرف کو عدالت میں لایا جارہا تھا کہ اچانک راستے میں اُنھیں دل کی تکلیف ہوئی جس کے بعد اُنھیں فوری طور پر راولپنڈی میں اے ایف آئی سی میں داخل کروا دیا گیا ہے۔

اس مقدمے میں چیف پراسکیوٹر اکرم شیخ نے کہا کہ ملزم پرویز مشرف کو تمام تر طبی سہولتیں فراہم کی جائیں گی لیکن عدالت اُن کے وارنٹ گرفتاری تو جاری کرے تاکہ قانون کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ اُنھوں نے کہا کہ عدالت اس سے پہلے ملزم کو دو مرتبہ عدالت میں پیش ہونے کے لیے سمن جاری کر چکی ہے۔

پرویز مشرف کے وکیل ڈاکٹر خالد ارنجھا کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے عدالت میں پیش ہو رہے تھے اور اچانک اُن کی طبیعت خراب ہوگئی۔ اُنھوں نے کہا کہ عدالت اُن کی گرفتاری کے وارنٹ جاری نہ کرے۔

عدالت نے اس معاملے پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو شام چار بجے سنایا گیا جس میں پرویز مشرف کو جمعرات کو بھی حاضری سے استثنیٰ دیتے ہوئے ان کی طبعیت کی خرابی کی بنیاد پر ان کے ورانٹ گرفتاری جاری نہ کرنے کی بات کی گئی ہے۔

پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے سماعت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا استغاثہ کا رویہ غیر اخلاقی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’پرویز مشرف کی اچانک بیماری اللہ کی رضا ہے اور استغاثہ کو متوازن رویہ رکھنا چاہیے۔‘

صحافیوں کی جانب سے پرویز مشرف کی بیماری سے متعلق بار بار پوچھے جانے والے سوالوں پر ان کا کہنا تھا کہ ایک صحت مند انسان بھی اچانک بیمار پڑ سکتا ہے اور پرویز مشرف اگر عدالتی کارروائیوں سے گھبراتے تو پاکستان واپس ہی نہ آتے۔

پرویز مشرف کے ایک وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا نے بی بی سی سے خصوصی بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’کوئی آدمی انھیں اپنی ذمہ داری پر ساتھ لانے کو تیار نہیں ہے۔ ان کی جان کو اور جو ان کے ساتھ ہیں ان کی جان کو خطرہ ہے اور یہ ایک مسئلہ ہے۔ ان کو طالبان قسم کے لوگوں سے خطرہ ہے جو ان کی جان کے درپے ہیں۔‘

یاد رہے کہ سابق فوجی صدر کے خلاف آئین توڑنے کے الزام میں غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے ابھی ان پر فردِ جرم عائد کرنا ہے۔

غداری کے مقدمے کی پیروی کے لیے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے شریف الدین پیرزادہ کی سربراہی میں سات رکنی وکلا کا پینل تشکیل دے رکھا ہے۔

وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کے خلاف آئین توڑنے اور تین نومبر سنہ 2007 کو ملک میں ایمرجنسی لگانے پر غداری کا مقدمہ شروع کرنے کی استدعا کی تھی۔ پاکستانی آئین کی دفعہ چھ کی خلاف ورزی کرنے کی سزا موت اور عمر قید ہے۔

اسی بارے میں