’مشرف تین بار گاڑی میں بیٹھے اور پھر اتر گئے‘

Image caption اسلام آباد پولیس پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کو آگاہ کرچکی ہے کہ اُس کے پاس بُلٹ پروف گاڑی تو موجود ہے لیکن دھماکہ خیز مواد سے بچاؤ کے لیے گاڑی موجود نہیں ہے

پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف جمعرات کو غداری کے مقدمے کی سماعت کے لیے خصوصی عدالت کے لیے جب چک شہزاد میں اپنے فارم ہاؤس سے نکلے تو وہ بظاہر وہ اُس طرح ہشاش بشاش نہیں لگ رہے تھے جس طرح وہ سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل یا اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمات میں عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں۔

سابق صدر کی سکیورٹی پر مامور ٹیم میں شامل ایک اہل کار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ عدالت جانے کے لیے نکلے ہی تھے کہ راستے میں ہی وائرلیس پر پیغامات آنے شروع ہوگئے کہ راول ڈیم چوک اور پھر کشمیر چوک میں دھماکہ خیز مواد رکھا گیا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔

اسلام آباد پولیس کے سربراہ سابق صدر پرویز مشرف کو بُلٹ پروف گاڑی میں عدالت میں لے کر آ رہے تھے اور اُن کی روانگی سے پہلے چک شہزاد اور پھر مری روڈ کے دونوں اطراف کی ٹریفک کو روک دیا گیا تھا۔ اہل کار کے مطابق روانگی سے پہلے بم ڈسپوزل سکواڈ نے روٹ کلیئر کر کے دیا تھا۔

اہل کار نے بتایا عدالت جاتے ہوئے اسلام آباد کلب کے پاس اچانک وائرلیس پر پیغام نشر ہوا کہ ان گاڑیوں کا رخ راولپنڈی کی طرف موڑ دیا جائے جس کے بعد پولیس کی بیس کے قریب گاڑیاں پرویز مشرف کو لے کر آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پہنچیں جہاں پرویز مشرف کو داخل کروا دیا گیا۔

اہل کار کے مطابق اس سے قبل جمعرات کو پرویز مشرف تین مرتبہ عدالت میں پیش ہونے کے لیے فارم ہاؤس سے نکلے تاہم پھر اُنھوں نے عین اُس وقت جانے کا ارادہ ملتوی کردیا جب وہ گاڑی میں سوار ہو رہے تھے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کو آگاہ کر چکی ہے کہ اُس کے پاس بُلٹ پروف گاڑی تو موجود ہے لیکن دھماکہ خیز مواد سے بچاؤ کے لیے گاڑی موجود نہیں ہے۔

اہل کار کے مطابق سابق فوجی صدر کی سکیورٹی اب اسلام آباد پولیس کی ذمہ داری نہیں رہی کیونکہ پرویز مشرف اسلام آباد میں درج ہونے والے کسی بھی مقدمے میں پولیس کو مطلوب نہیں ہیں۔ اہل کار کے مطابق اب راولپنڈی پولیس پرویز مشرف کی سکیورٹی کی ذمہ دار ہے۔

اے ایف آئی سی میں پرویز مشرف کے داخلے کے بعد اس ہسپتال میں عام آدمی کا داخلہ بند کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے آنے والے ایک سے زائد افراد کو بھی ہسپتال سے باہر نکال دیا گیا ہے۔

ادھر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کے دوران اُن کے وکلا اس مقدمے کی کارروائی کو ملتوی کروانے کی کوششوں میں ہی مصروف دکھائی دیے۔

مشرف کے وکیل ابراہیم ستی نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے کے چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے دھمکی دی ہے کہ اُن کی ٹیم کے سربراہ شریف الدین پیرزادہ کو اُٹھا کر باہر پھینک دیں گے کیونکہ اُنھوں نے ہمیشہ فوجی آمر کا ساتھ دیا ہے۔

اس کے بعد اُن کی ٹیم کے ایک اور رکن انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ رات گئے نامعلوم افراد اُن کے گھر کی گھنٹیاں بجاتے رہے اور اُنھوں نے ایک لمحہ بھی سونے نہیں دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ اس صورت حال میں وہ اس مقدمے کی پیروی نہیں کرسکتے اور اُن سمیت پرویز مشرف کے وکلا نےکچھ دیر کے لیے عدالتی امور کا بائیکاٹ کیا تاہم کچھ دیر کے بعد وہ عدالت میں واپس آ گئے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ڈی آئی جی سکیورٹی پرویز مشرف کے بارے میں عدالت کو آگاہ کرنے سے پہلے ہی سابق فوجی صدر کی لیگل ٹیم کو معلوم ہوگیا تھا کہ طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے۔

اسی بارے میں