ٹانک میں بم حملہ، پولیس اہلکار ہلاک

فائل فوٹو
Image caption پولیس اہلکار کے مطابق دھماکے میں گاڑی تباہ ہوگئی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع ٹانک میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک ریموٹ کنٹرول بم حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ دھماکہ جمعرات کی صبح ساڑھے آٹھ بجے کے قریب ٹانک شہر کے علاقے پتھر پل میں ٹانک وانا روڈ پر ہوا اور اس میں ایک پولیس موبائل کو نشانہ بنایا گیا۔

ٹانک پولیس کے ایک اہلکار عبداللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس موبائل سڑک پر نصب بم کا نشانہ بنی اور اس واقعے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔

اہلکار کے مطابق دھماکے میں گاڑی تباہ ہوگئی جبکہ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ٹانک منتقل کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ضلع ٹانک کی حدود قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے ملتی ہیں اور یہاں سکیورٹی کی مخدوش صورتِ حال کی وجہ سے چند ماہ قبل ضمنی انتخاب بھی ملتوی کیے گئے تھے۔

ادھر صوبہ خیبر پختون خوا کے سب سے بڑے ہسپتال لیڈی ریڈنگ کے ایک ڈاکٹر کو نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کر لیا ہے۔

پولیس اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ لیڈی ریڈنگ ہپستال پشاور کے ڈاکٹر فاروق ضیاء جمعرات کی صبح اپنے گھر سے ہپستال جا رہے تھے کہ کہ کوہاٹی کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے انہیں اغواء کرلیا۔

انہوں نے کہا کہ مغوی ڈاکٹر لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے چلڈرن وراڈ کے ٹی ایم او تھے۔

خیال رہے کہ پشاور میں گزشتہ عرصہ سے ڈاکٹروں اور سرکاری اہلکاروں کے اغواء برائے تاوان کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

گزشتہ ماہ بھی لیڈی ریڈنگ ہسپتال ہی کے ایک سینیئر ڈاکٹر امجد تقویم کو مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا اور کچھ دن قبل ہی انھیں خیبر ایجنسی کے علاقے سے بازیاب کروایا گیا ہے۔

ڈاکٹروں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران پشاور میں ایک درجن سے زیادہ ڈاکٹروں کو اغوا کیا گیا ہے جن میں سے اکثر تاوان ادا کرنے کے بعد اپنے گھروں کو پہنچے ہیں۔

اسی بارے میں