بلوچستان: مختلف واقعات میں چار ہلاک

Image caption آئی جی ایف سی میجر جنرل محمد اعجاز شاہد نے ایف سی کی جانب سے اس کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ فرنٹیئر کور بلوچستان صوبے میں امن وامان قائم رکھنے کے لیے کوشاں ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے نصیر آباد میں فرنٹیئر کور کے ساتھ ایک جھڑپ میں دو مسلح افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی طرح بلوچستان ہی میں ایک اور واقعہ میں ایران سے متصل ضلعے پنجگور میں پولیس اور فرنٹیئر کور کے دو اہلکار ایک دوسرے پر فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔

فرنٹیئر کور کے ترجمان کے مطابق مسلح افراد سے جھڑپ جمعہ کے روز ضلع نصیرآباد کے علاقے پھلیجی میں ہوئی۔

ترجمان کے مطابق فرنٹیئر کور بلوچستان کے اہلکار اس علاقے میں معمول کے گشت پر تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان پر اچانک حملہ کردیا۔

فرنٹیئر کی بھرپور جوابی کارروائی کے نتیجے میں دو مسلح افراد ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔

آئی جی ایف سی میجر جنرل محمد اعجاز شاہد نے ایف سی کی جانب سے اس کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ فرنٹیئر کور بلوچستان صوبے میں امن وامان قائم رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔

دوسری جانب کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچ رپبلکن آرمی نے اس جھڑپ میں اپنے دو کارکنوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

تنظیم کے ترجمان نے نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون پراس جھڑپ میں ایف سی کے تین اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔

بی آر اے کے ترجمان نے اس کے علاوہ 27دسمبر2013 کو ضلع نصیر آباد کے علاقے میں ایک اور کارروائی میں ایف سی کے دو اہلکاروں کو ہلاک اور ایک کو گرفتار کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔

بلوچستان کے علاقے پنجگور میں ایک اور واقعے میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ایک دوسرے پر فائرنگ سے پولیس کا ایک سب انسپکٹر اور ایف سی کا ایک اہلکار ہلاک ہوگیا۔

پنجگور پولیس کے مطابق شہر میں ہلاک ہونے والے دو اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد انہوں نے ایک دوسرے پر فائر کھول دیا۔

اسی بارے میں