لاہور: دس سالہ ملازمہ کی موت، مالکن کا اعترافِ جرم

Image caption ناصرہ نے پولیس کو بتایا کہ ارم کو پیسے چوری کرنے کی عادت تھی اور اب بھی اس نے پیسے چوری کیے تھے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے علاقے عسکری نائن میں مالکہ نے دس سالہ گھریلو ملازمہ کو تشدد کر کے قتل کرنے کا اعتراف کرلیا ہے۔

’مجھ پتہ نہیں چلا کب وہ مر گئی‘

دس سالہ ارم کا تعلق اوکاڑہ سے تھا اور وہ گذشتہ ڈھائی ماہ سے لاہور کے الطاف محمود اور ناصرہ کے گھر کام کر رہی تھی۔ ڈاکٹروں کے مطابق رات کو ارم کو مردہ حالت میں سروسز ہسپتال لایا گیا تھا۔

ناصرہ نے پولیس کو بتایا کہ ارم کو پیسے چوری کرنے کی عادت تھی اور اب بھی اس نے پیسے چوری کیے تھے: ’میں نے اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ارم پر تشدد کیا۔ تاہم مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس تشدد سے دس سالہ ارم کی جان ہی چلی جائے گی۔‘

ناصرہ نے مزید بتایا: ’ارم نے تین مرتبہ پیسے نکالے۔ پہلی دو بار میں نے اسے کچھ نہیں کہا لیکن کل جب اس نے نکالے تو میں نے اس سے پوچھا تو کہنے لگی میں نے کھا لیے ہیں۔ میں نے ارم کو کہا تم نے نہیں کھائے اور اسے مارنا شروع کردیا۔

’لیکن وہ نہیں مانی۔ کبھی کہے یہاں رکھ دیے کبھی کہیں وہاں رکھ دیے۔ میں اسے بولتی رہی اور ساتھ ہی اسے مارتی رہی۔ مارتی تو میں اسے پہلے بھی ہوں لیکن اتنا نہیں۔ رات تو مجھے پتہ ہی نہیں چلا اتنا غصہ آیا کہ اس سے منواتے منواتے مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ میں نے اسے مار دیا۔‘

پولیس کے مطابق رات ایک بجے کے قریب شمالی چھاؤنی کے علاقے عسکری نائن کے رہائشی الطاف محمود اور ان کا بیٹا ابرار ارم کو سروسز ہسپتال لے کر آئے۔

ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں نے اس کا معائنہ کیا تو اس کی موت واقع ہوچکی تھی۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق جب ارم کو ہسپتال لایا گیا تو اس کے پورے جسم پر زخموں کے نشانات اور جگہ جگہ نیل پڑے ہوئے تھے، اور اس کی موت ہوچکی تھی۔

ہسپتال کے اے ایم ایس ڈاکٹر عمران کا کہنا تھا کہ موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔

سروسز ہسپتال کے عملے نے اس واقعے کی اطلاع پولیس کو دی اور پولیس نے رات ہی الطاف محمود ان کے بیٹے ابرار اور بیوی ناصرہ کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی جب کہ ارم کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے میو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

ایس پی کینٹ عمر سرفراز چیمہ کہتے ہیں کہ ابتدائی تحقیقات میں بچی پر تشدد کے شواہد ملے ہیں: ’معمولی شک کی بنیاد پر الطاف اور ان کے گھر والوں نے ارم کو دو دن تک تشدد کا نشانہ بنایا، اس کوباندھ کے رکھا اور اسے پانی کے پائپ سے مارتے رہے۔ اور جب اس کی حالت بہت غیر ہوگئی تو اسے ہسپتال لے گئے۔‘

تاہم ناصرہ کا کہنا ہے کہ ارم پر تشدد صرف انھوں نے ہی کیا۔ اس میں ان کے شوہر اور بیٹا شامل نہیں تھے۔

بچی کا تعلق اوکاڑہ کے علاقے دیپالپور سے ہے، اور اسے الطاف محمود کا خاندان دو ماہ دس دن پہلے ڈھائی ہزار روپے ماہوار پر گھریلو ملازمہ کے طور پر لاہور لایا تھا۔

بچی کی والدہ زبیدہ کا کہنا ہے کہ الطاف محمود اور ان کے خاندان نے انھیں بچی سے ملنے نہیں دیا اور وہ رات گھر کے باہر کھڑے بچی پر تشدد کی آوازیں سنتے رہے:

’یہ مجھے بچی سے ملنے بھی نہیں دیتے تھے۔ رات جب ہم ماں بیٹا ارم سے ملنے آئے تو ہمیں باہر مار پیٹ کی آوازیں آ رہی تھیں۔ وہ چیخ رہی تھی لیکن انھوں نے ہمیں اس سے ملنے نہیں دیا۔ پھر جب یہ ہسپتال جانے کے لیے گھر سے نکلے تو ہم ان کے پیچھے پیچھے سروسز ہسپتال گئے لیکن میری بچی مر چکی تھی۔‘

ارم کے والد کا انتقال ہوچکا ہے۔ اور وہ پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی۔