کراچی:فائرنگ سے دو اہلکاروں سمیت چار ہلاک

Image caption گزشتہ تین ماہ میں کراچی کے مدرسہ احسن العلوم سے وابستہ لوگوں کو تیسری بار نشانہ بنایا گیا ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فائرنگ کے دو واقعات میں دینی مدرسے کے دو طالب علم اور دو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ اورنگی کے علاقے میں سنیچر کی شام پیش آیا۔

ایس پی اورنگی چوہدری اسد کا کہنا ہے کہ ایک پولیس موبائل چار نمبر چورنگی کے قریب سے گزر رہی تھی کہ نامعلوم مسلح افراد نے اس پر فائرنگ کی جس سے ہیڈ کانسٹیبل لعل اور کانسٹیبل یونس ہلاک جبکہ ایک اہلکار سمیت دو افراد زخمی ہوگئے۔

انہوں نے اس واقعے کو ٹارگٹڈ کلنگ قرار دیا۔ یاد رہے کہ کراچی میں گزشتہ سال افسران سمیت ڈیڑھ سو سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہوئے، جن میں سے اکثر ٹارگٹ کلنگ کا ہت شکار ہوئے۔

اس سے قبل گلشن اقبال کی پولیس کے مطابق سنیچر کی صبح سینٹرم مال کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو نوجوان ہلاک ہوئے، جن کی شناخت عابد اور ساجد کے نام سے کی گئی۔

مدرسہ احسن العلوم کے استاد مولانا اکبر کا کہنا ہے کہ دونوں سگے بھائی اور ان کے مدرسے کے طالب علم تھے اور صبح کو مدرسے آ رہے تھے کہ انہیں نشانہ بنایا گیا۔

واضح رہے کہ گذشتہ تین ماہ میں مدرسہ احسن العلوم سے وابستہ افراد کو تیسری بار نشانہ بنایا گیا ہے، اس سے پہلے دسمبر کے پہلے ہفتے میں مدرسے کے مہتمم مولانا محمد اسماعیل اور نومبر میں تین طالب علموں کو بھی اسی طرح نشانہ بنایا گیا تھا۔

عابد اور ساجد کی ہلاکت کے بعد یونیورسٹی روڈ پر مشتعل افراد نے ٹائروں کو نذر آتش کر کے ٹریفک معطل کر دی۔مظاہرین حملہ آوروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر رہے تھے۔

پولیس حکام اور مدرسہ انتظامیہ میں مذاکرات کے بعد رکاوٹیں ہٹاکر ٹریفک کو بحال کیا گیا تاہم قریب کے علاقے میں کاروبار بند رہا۔

اہلسنت و الجماعت کے مرکزی ترجمان مولانا اورنگزیب فاروقی نے دو طالب علموں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اہلسنت علما اور طالب علموں کی ہلاکت قابل تشویش ہے، انہوں نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

اس سے پہلے گذشتہ شب گلشن اقبال میں ہی مسکن چورنگی پر موٹر سائیکل سواروں نے ایک جوس کی دکان پر فائرنگ کی، جس میں تین افراد ہلاک ہوگئے، پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت نادر علی، عبدالواحد اور حسین علی کے نام سے کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ کراچی میں قیام امن کے لیے رینجرز کی سربراہی میں ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے، جس میں گیارہ ہزار سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

رینجرز ترجمان کا دعویٰ ہے کہ جمعے کی رات سے جاری فرقہ وارانہ ہلاکتوں کے پیچھے ایک سیاسی تنظیم کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں، جو شہر کی امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔

ترجمان کے مطابق اہل تشیع اور اہل سنت مسلکوں میں مکمل ہم آہنگی ہے وہ مل کر ان سازشوں کو ناکام بنائیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے جلد ملزمان کو گرفت میں لائیں گے۔

اسی بارے میں