’مشرف عدالت میں پیش نہیں ہوں گے‘

Image caption غداری کے مقدمے میں پیشی کے لیے سفر کے دوران علیل ہونے والے پاکستان کے سابق فوجی حکمران جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف راولپنڈی میں فوج کے ادارہ برائے امراض قلب میں زیرِ علاج ہیں

پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا ہے کہ پرویز مشرف بیمار ہیں اور وہ کل (پیر) کو عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔

احمد رضا قصوری نے اتوار کو اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ پرویز مشرف کی میڈیکل رپورٹ پیر کو اسلام آباد کی خصوصی عدالت میں پیش کریں۔

سابق صدر کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر آج انھیں پرویز مشرف کی میڈیکل رپورٹ نہ ملی تو وہ پیر کو خصوصی عدالت سے زبانی درخواست کریں گے کہ ان کے موکل کو حاضری سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔

احمد رضا قصوری نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ ڈاکٹرز کی رائے کو رپورٹ کی صورت میں کل (پیر) کو عدالت میں پیش کریں۔

خیال رہے کہ غداری کے مقدمے میں پیشی کے لیے سفر کے دوران علیل ہونے والے پاکستان کے سابق فوجی حکمران جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف راولپنڈی میں فوج کے ادارہ برائے امراض قلب میں زیرِ علاج ہیں۔

پرویز مشرف کو غداری کے مقدمے میں جمعرات کو عدالت میں پیش کیا جانا تھا تاہم عدالت جاتے ہوئے راستے میں ان کی طبیعت خراب ہو گئی اور انھیں راولپنڈی میں’آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی‘ لے جایا گیا۔

جمعرات کو ہی پرویز مشرف کی ناسازیِ طبع کی وجہ سے اسلام آباد میں ان کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے ان کی گرفتاری کےاحکامات جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

عدالت نے انھیں جمعرات کو بھی حاضری سے استثنیٰ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ چھ جنوری کو آئندہ سماعت پر اس معاملے کو دوبارہ سنے گی۔

سماعت کے دوران خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب کے استفسار پر ڈی آئی جی سکیورٹی جان محمد نے عدالت کو بتایا کہ پرویز مشرف کو عدالت لایا جارہا تھا کہ اچانک راستے میں اُنھیں دل کی تکلیف ہوئی جس کے بعد اُنھیں فوری طور پر راولپنڈی میں اے ایف آئی سی میں داخل کروا دیا گیا۔

عدالت نے اس معاملے پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو شام چار بجے سنایا گیا جس میں پرویز مشرف کو جمعرات کو بھی حاضری سے استثنیٰ دیتے ہوئے ان کی طبعیت کی خرابی کی بنیاد پر ان کے ورانٹ گرفتاری جاری نہ کرنے کی بات کی گئی۔

اسی بارے میں