شدت پسندی: ’اسلام آباد میں 300، پنجاب میں 123 فیصد اضافہ‘

Image caption سالانہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال شدت پسندوں اور فرقہ وارانہ نوعیت کے 1717 حملے ہوئے جن میں 2451 لوگوں کی ہلاکت ہوئی

پاکستان کے ایک تھنک ٹینک نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ سنہ 2012 کے مقابلے میں پچھلے سال شدت پسندی کی کارروائیوں میں نو فیصد اضافہ جبکہ ان کارروائیوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں انیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز یعنی پپس کی جانب سے اتوار کو جاری کی گئی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2012 کے مقابلے میں پچھلے سال خودکش حملوں میں بھی 39 فیصد اضافہ ہوا۔

سالانہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال شدت پسندوں اور فرقہ وارانہ نوعیت کے 1717 حملے ہوئے جن میں 2451 لوگوں کی ہلاکت ہوئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے ملک میں عدم استحکام پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے آپریشنز اور ڈرون حملوں میں اس تحریک کے کئی سرکردہ رہنما ہلاک ہوئے لیکن اس کے باوجود اس کی صلاحیت میں کمی واقع نہیں ہوئی۔

پپس کے مطابق تحریک طالبان پاکستان نے ملک کے پچاس اضلاع میں 645 شدت پسند کارروائیاں کیں جن میں 732 عام شہری اور 425 اہلکار ہلاک ہوئے۔

فرقہ وارانہ تشدد

Image caption کوئٹہ فرقہ وارانہ تشدد میں سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 23 پرتشدد واقعات میں 262 افراد ہلاک ہوئے

رپورٹ کے مطابق ملک میں فرقہ وارانہ کارروائیوں میں بھی پچھلے سال اضافہ ہوا۔

پپس کی رپورٹ کے مطابق 2013 میں 220 فرقہ وارانہ پرتشدد واقعات پیش آئے جن میں 687 افراد ہلاک جبکہ 1319 زخمی ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہنگو، اسلام آباد اور راولپنڈی، کراچی، کوئٹہ، پشاور اور کرم ایجنسی فرقہ وارانہ کارروائیوں میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

کوئٹہ فرقہ وارانہ تشدد میں سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 23 پرتشدد واقعات میں 262 افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم کراچی میں فرقہ وارانہ تشدد کے سب سے واقعات پیش آیے جہاں 132 ایسے واقعات میں 212 لوگ ہلاک ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق فرقہ وارانہ تشدد کے کُل واقعات میں سے پچاس فیصد سے زیادہ حملے شیعہ مسلمانوں کے خلاف جبکہ سینتیس فیصد حملے سُنت مسلک سے تعلق رکھنے والوں پر کیے گئے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان فرقہ وارانہ کارروائیوں میں 99 سُنی مسلمانوں کی ہلاکت ہوئی جبکہ 471 ہلاک ہونے والوں کا تعلق شیعہ مسلک سے تھا۔

بلوچستان

Image caption سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شہر دارالحکومت کوئٹہ تھا جہاں 112 حملوں میں 398 افراد ہلاک ہوئے

صوبہ بلوچستان میں 2013 میں 487 پرتشدد واقعات پیش آئے جن میں 398 افراد ہلاک جبکہ 1043 زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے تیس اضلاع میں 487 واقعات پیش آئے۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شہر دارالحکومت کوئٹہ تھا جہاں 112 حملوں میں 398 افراد ہلاک ہوئے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں 487 واقعات میں سے 424 حملے شدت پسندوں نے کیے جبکہ 33 فرقہ وارانہ حملے ہوئے جن میں سے زیادہ تر حملے کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی نے کیے جبکہ 30 حملے دیگر تنظیموں نے کیے بشمول ٹی ٹی پی۔

بلوچستان میں پرتشدد واقعات میں ہلاک ہونے والوں میں 560 عام شہری، 97 پولیس اہلکار، 26 شدت پسند، 25 ایف سی کے اہلکار، گیارہ لیویز اور آٹھ فوجی شامل ہیں۔

شدت پسند کارروائیاں

Image caption شدت پسند کارروائیوں میں کراچی میں 90 فیصد جبکہ گلگت بلتستان میں 80 فیصد اضافہ ہوا

پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کی سالنہ رپورٹ کے مطابق 2013 میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شدت پسند کارروائیوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں 2012 کے مقابلے میں پچھلے سال شدت پسند کارروائیوں میں 300 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اس کے بعد صوبہ پنجاب میں اضافہ دیکھنے کو آیا جہاں 123 فیصد اضافہ ہوا۔

شدت پسند کارروائیوں میں کراچی میں 90 فیصد جبکہ گلگت بلتستان میں 80 فیصد اضافہ ہوا۔

اسی بارے میں