’اسلام آباد کے ریسٹورنٹ میں پاکستانیوں کا داخلہ ممنوع‘

Image caption ریسٹورنٹ میں 365 شراب کی بوتلیں برآمد ہوئیں: پولیس

اسلام آباد کے ایک متموّل علاقے میں ایک پولیس افسر اور مقامی انتظامیہ کے ایک اہل کار نے ایک ریسٹورنٹ میں داخل ہونے کے لیے اپنے آپ کو جرمن اور کینیڈین شہری ظاہر کیا۔ گارڈ نے جب ان سے پاسپورٹ نمبر پوچھا تو انھوں نے قریبی تھانے سے پولیس کی ٹیم کو بلایا اور ریسٹورنٹ میں داخل ہو گئے۔

اور اس طرح اسلام آباد میں کھلنے والا ’لا میزوں‘ نامی ریسٹورنٹ شروع ہوتے ہی بند ہوگیا۔

اس ریسٹورنٹ کے مالک ایک فرانسیسی شہری ہیں جن کا نام فلپ لافورگ ہے جو پولیس کے چھاپے کے وقت ریسٹورنٹ میں موجود نہیں تھے۔

ریسٹورنٹ پر چھاپے کے وقت وہاں موجود اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد محمد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ریسٹورنٹ کے اندر کسینو تھا، اور اس کے علاوہ وہاں بہت بڑی تعداد میں شراب کی بوتلیں اور آتش بازی کا مواد بھی موجود تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ریسٹورنٹ میں 365 شراب کی بوتلیں برآمد ہوئیں، مزید یہ کہ ریسٹورنٹ میں موجود عملے کے پاس لائسنس نہیں تھا۔ پولیس نے ریسٹورنٹ کے دو ملازمین کو حدود آرڈیننس کی سیکشن تین اور چار کے تحت گرفتار کر لیا ہے لیکن اس ریسٹورنٹ کے مالک فلپ لافورگ آزاد ہیں۔

لیکن ’لا میزوں‘ پر چھاپہ مارنے کی وجہ غیر قانونی شراب ہی تھی یا یہ کچھ اور۔ اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد محمد علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عوامی شکایات اور پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ اس ریسٹورنٹ میں پاکستانیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔

’اکثر ہم چھاپہ مارنے سے پہلے وارننگ جاری کرتے ہیں، لیکن یہ ایک انوکھا کیس تھا جہاں پاکستانیوں کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس قسم کی تفریق ہمارے آئین کے بھی خلاف ہے۔‘

چھاپے سے قبل ایک پاکستانی صحافی سرل المیڈا نے جب لا میزوں میں ریزرویشن کرنے کی کوشش کی تو انھیں اس لیے منع کر دیا گیا کہ وہ پاکستانی تھے۔

اس پابندی کے خلاف المیڈا نے فلپ لافورگ کو ای میل بھیجا جس کا جواب کچھ یوں تھا: ’میں نے یہ ریسٹورنٹ خالص فرانسیسی کھانوں کے لیے کھولا ہے جو یہاں کے لوگوں کے ایمان کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔۔۔۔ یہ عام لوگوں کے لیے اس لیے نہیں ہے کیونکہ یہاں کھانا حلال نہیں ہے۔ اس کھانے کی ترکیبیں بدلی نہیں جا سکتیں۔ دہری شہریت والے پاکستانی شہریوں کا خیر مقدم کرتا ہوں۔‘

سرل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس ریسٹورنٹ پر اس لیے اعتراض تھا کہ ملک کے دارالحکومت میں، جہاں غیر ملکی آزادی سے شہر میں پھرتے ہیں، پاکستانیوں کا داخلہ کیوں ممنوع ہے؟

’مجھے توہین محسوس ہوئی کہ یہ نہ تو سفارت خانہ ہے، نہ ہی نجی کلب، تو میرا پاسپورٹ کیوں دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ تو ایک نجی کاروبار ہے۔‘

بی بی سی نے اس سلسلے میں فلپ لافورگ سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

ایسا واقعہ اسلام آباد میں پہلی بار نہیں ہوا۔ اس سے پہلے سیکٹر ایف ایٹ میں ایک چینی ریسٹورنٹ نے بھی پاکستانیوں کے داخلے پر پابندی لگائی تھی اور شکایات کے بعد وہ بھی 2010 میں بند ہو گیا۔ اسی طرح 2009 میں اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں، جہاں سفارت خانے اور عملے کے لیے ریسٹورنٹ موجود ہیں، کورڈوں روج نامی ریسٹورنٹ نے رمضان کے دوران ’صرف غیر ملکیوں کے لیے‘ ایک سائن بورڈ لگایا تھا، تاہم اسے بعد میں بعد اتار دیا گیا۔

ریسٹورنٹ کے مالک جوں لیک ہیو نے اس وقت بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ نسل کی بنیاد پر امتیاز نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا: ’میں ریسٹورنٹ کا مالک ہوں اور یہ میرا کاروبار ہے۔ میں پاکستانیوں کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ جب اپنے کاروبار کے لیے مجھے ان کی ضرورت ہے تو میں پاکستانیوں کو منع کیوں کروں گا۔‘

اس تنازعے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر غم و غصہ پایا گیا۔ عدیلہ زبیر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’اس واقعے سے مجھے نو آبادیاتی ہندوستان یاد آگیا جب برطانوی کلبوں میں ’ہندوستانی اور کتوں کو اجازت نہیں ہے‘ کی پالیسی ہوا کرتی تھی۔

اسی بارے میں