خیبر ایجنسی: وادیِ تیراہ میں دھماکے سے دس افراد ہلاک

Image caption خیبر ایجنسی میں شدت پسندی کے واقعات گذشتہ کئی سالوں سے جاری ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے علاقے وادیِ تیراہ میں حکام کے مطابق ایک دھماکے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دھماکہ وادیِ تیراہ کے مقام درس جماعت میں واقع ایک حجرے میں ہوا۔

حکام کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد پہلے سے ہی حجرے میں موجود تھا اور اس کے پھٹنے کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔

وادیِ تیراہ: جنت سے جہنم کا سفر

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ایجنسی کے سینیئر اہل کار نثار خان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں تین بچے بھی شامل ہیں جب کہ نو افراد زخمی ہیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حجرہ ایک مقامی شدت پسند تنظیم کے رکن تھا اور دھماکے میں اس تنطیم کے تین رکن ہلاک ہونے والے دس افراد میں شامل ہیں۔

تاہم ابھی تک تنظیم کا نام سامنے نہیں آ سکا ہے۔ خیبر ایجنسی کی اس دورافتادہ وادی میں تین کالعدم شدت پسند تنظیمیں لشکر اسلام، انصار الاسلام اور تحریک طالبان موجود ہیں اور ان تنظیموں کے درمیان متعدد بار جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

گذشتہ سال سکیورٹی فورسز نے وادیِ تیراہ میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کی تھیں جس میں سکیورٹی فورسز کے متعدد اہل کار ہلاک ہو گئے تھے جب کہ سکیورٹی فورسز نے سینکڑوں شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔

سکیورٹی فورسز نے یہاں کارروائیوں میں فضائی طاقت کا استعمال کیا تھا جس میں عام شہری بھی مارے گئے تھے۔

خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی متعدد کارروائیوں اور شدت پسند تنظیموں کے مابین جھڑپوں کے نتیجے میں یہاں سے ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

وادیِ تیراہ تقریباً سو کلومیٹر پر پھیلا ہوا ایسا قبائلی خطہ ہے جس کی سرحدیں تین ایجنسیوں خیبر، اورکزئی اور کُرم سے ملتی ہیں۔ یہ وادی افغانستان کی سرحد سے قریب اور باڑہ سے تقریباً 65 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اس علاقے کی دفاعی اہمیت بہت زیادہ ہے اور یہیں سے شمال میں افغانستان کی سرحد پر تعینات پاکستانی فوج کے لیے سپلائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں