مقدمہ چلانا ہے تو سب پر چلائیں: چوہدری شجاعت

Image caption چوہدری شجاعت نے عداری کے سنگین الزامات پر بھی اعتراض کیا

پاکستان مسلم لیگ قاف کے رہنما اور ملک کے سابق وزیرِاعظم چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ اگر حکومت سنجیدگی سے پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ چلانا چاہتی ہے تو ان کے علاوہ اور بھی شخصیات کو اس مقدمے میں شامل کیا جائے۔

پیر کے روز ایوانِ بالا میں اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر پرویز مشرف پر مقدمہ چلانا ہی ہے تو بارہ اکتوبر 1999 سے چلایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت صرف تین نومبر 2007 کی ایمرجنسی کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہے تو اس سلسلے میں مزید افراد کو بھی مقدمے میں شامل کیا جائے۔

پرویز مشرف کو نومبر 2007 میں ملک میں ایمرجنسی نافذ کر کے آئین کو پامال کرنے کے الزام میں آرٹیکل چھ کے تحت غداری کے مقدمے کا سامنا ہے۔

چوہدری شجاعت کا کہنا تھا کہ میں اپنا نام پہلے ہی پیش کر چکا ہوں اور مقدمے میں پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ پرویز الہی، سابق آرمی چیف اشفاق کیانی اور سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس چوہدری افتخار سمیت پرویز مشروف نے جس جس سے بھی مشورہ کیا ہے ان تمام افراد کو بھی شامل کریں۔

اس کے علاوہ سنیٹ میں مسلم لیگ قاف کے قائد چوہدری شجاعت نے کہا کہ انھیں سابق فوجی صدر کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت سنگین غداری کے الزامات پر اعتراض ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ ’ہم پرویز مشروف پر سنگین غداری کے الزامات عائد کر کے دنیا کو کیا بتانا چاہتے ہیں، کہ ہمارے ملک کا فوجی سربراہ غدار نکالا ہے۔‘

چوہدری شجاعت کے بیان کے بعد پاکستان مسلم لیگ نون کے سنٹرل انفارمیشن سیکرٹری سینیٹر مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا مقصد مستقبل میں آمروں کے آنے کا راستہ بند کرنا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے بیماری کی وجہ سے پیر کے روز اُن کے گرفتاری کے وارنٹ جاری نہیں کیے اور آئندہ سماعت پر آرمڈ فورس انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ( اے ایف آئی سی) کے سپرنٹینڈنٹ سے ملزم پرویز مشرف کی صحت سے متعلق رپورٹ طلب کر لی ہے۔

پیر کو عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ چونکہ پرویز مشرف نے اس مقدمے میں وکلا کی خدمات بھی حاصل کی ہیں اور انھوں نے اپنی رہائش گاہ بھی تبدیل نہیں کی اس لیے اُن کے گرفتاری کے وارنٹ جاری نہیں کیے جا رہے۔

یاد رہے کہ خصوصی عدالت نے پرویز مشرف پر فردِ جرم عائد کرنے کے لیے عدالت میں پیشی کا حکم دیا تھا۔ تاہم یکم جنوری کو عدالت جاتے ہوئے پرویز مشرف کی طبیعت خراب ہوگئی اور انہیں ہسپتال جانا پڑا۔

اسی بارے میں