کراچی: ادیبوں کا الطاف حسین کے خلاف احتجاج

Image caption الطاف حسین کے ناجائز مطالبے کے خلاف پرامن احتجاج ابتدا کر دی گئی ہے: رائٹرز

کراچی میں سندھی ادیبوں، دانشوروں اور شعرا نے متحدہ قومی موومنٹ کے لندن میں مقیم سربراہ الطاف حسین کے خلاف برطانوی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاج کیا ہے۔

حیدرآباد اور کراچی میں جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے کہا تھا کہ اگر پیپلزپارٹی والے سندھ کی عوام کو ایک نگاہ سے نہیں دیکھ سکتے تو پھر بہتر یہ ہوگا کہ پیپلزپارٹی کی سندھی عوام کے لیے صوبہ سندھ ون اور جنھیں پیپلزپارٹی سندھی تسلیم نہیں کرتی ان کے لیے صوبہ سندھ ٹو بنا دیں۔

سندھی رائٹرز اینڈ تھنکرز فورم نے الطاف حسین کے خلاف کلفٹن میں دو تلوار سے برطانوی ہائی کمیشن تک مارچ کا اعلان کیا تھا۔

’سندھ ون اور سندھ ٹو بنا دیں‘

پیر کی دوپہر کو ادیب، دانشور اور شعرا ’مرسوں، مرسوں سندھ نہ ڈیسوں‘ کے نعرے لگاتے ہوئے برطانوی ہائی کمیشن پہنچے جہاں یادداشت نامہ پیش کیا گیا۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار دستگیر بھٹی کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے یادداشت نامے کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا کہ الطاف حسین برطانوی شہری ہونے کے باوجود پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں اور پاکستان کی ریاست توڑنے اور سندھ کی یکجہتی کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ برطانوی حکومت اس میں شریک ہے اور اسی نے الطاف حسین کو ایسے بیانات کی اجازت دے رکھی ہے۔‘

نامور سندھی شاعر آکاش انصاری کا کہنا تھا کہ برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ الطاف حسین نے جو کچھ کہا ہے برطانوی حکومت کا اس سے کوئی بھی تعلق نہیں اور ان کے جو تحفظات اور خدشات ہیں اس سے برطانوی حکومت کو آگاہ کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ الطاف حسین کے بیان کے خلاف قومی عوامی تحریک نے ہڑتال کا اعلان کیا تھا لیکن اتوار کی شب ہڑتال کی کال واپس لے لی گئی۔

اس سے پہلے سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم کی سربراہی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ایک وفد نے قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد یہ اعلان واپس لیا گیا۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایاز لطیف پلیجو کا کہنا تھا کہ متحدہ نے وضاحت کی ہے کہ الطاف حسین کے بیان کا مطلب سندھ کی تقسیم نہیں تھی اور نہ ہی آئندہ ایسی کوئی بات کی جائے گی۔

ایاز کا کہنا تھا کہ وہ ٹکراؤ نہیں چاہتے ہیں کیونکہ ٹکراؤ سے لاکھوں سندھی اور اردو بولنے والی ماؤں اور بہنوں کے بچے غیر محفوظ ہو جائیں گے۔

انھوں نے واضح کیا کہ اگر ہمارا پاکستان پیپلز پارٹی یا حکومت سے کوئی مسئلہ ہے تو اس میں سندھ کی یکجہتی اور وحدت کو درمیان میں نہیں لانا چاہیے۔

متحدہ کے رہنما وسیم احمد اور کنور جمیل کا کہنا تھا کہ شہری آبادی کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے انھیں امید ہے کہ اس زیادتی کے خلاف وہ ان کا ساتھ دیں گے۔

بقول ان کے بلدیاتی حلقہ بندیوں میں شہری علاقوں سے زیادتی کی گئی تھی۔

احتجاج میں شریک سندھی رائٹرز فورم کے رہنما، سندھی ادیب اور دانشور جامی چانڈیو نے ایم کیو ایم کی یقین دہانی کو ناکافی قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ متحدہ کے وفد سے تحریری ضمانت لینی چاہیے تھی یا کم سے کم مشترکہ پریس کانفرنس کرتے جس میں وہ رسمی طور پر اعلان کرتے کہ وہ الطاف حسین کی تقریر کو واپس لیتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔

جامی چانڈیو کے مطابق جس روز ایم کیو ایم کے وفد نے ایاز پلیجو سے ملاقات کی ہے اسی روز الطاف حسین نے کراچی میں اپنے خطاب میں دوبارہ سندھ کی تقسیم کا مطالبہ دہرایا، وہ سمجھتے ہیں اس ناجائز مطالبے کے خلاف وسیع پیمانے پر پرامن احتجاج ہونا چاہیے، جس کی ابتدا انھوں نے کر دی ہے۔

اسی بارے میں