’پہلے میچ فکس تھا، بلدیاتی الیکشن میں باری ہماری‘

Image caption عمران خان نے نیٹو سپلائی جاری رکھنے پر وفاقی حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ موجودہ حکومت بھی پچھلی حکومت کی طرح دوغلی پالیسی اپنائے ہوئے ہے

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ 11 مئی کے انتخابات میں میچ فکس ہوا تھا لیکن اگر بلدیاتی انتخابات میں بھی دھاندلی ہوئی تو پاکستان کی سڑکوں پر انتشار ہو گا اور عوام باہر نکل آئیں گے۔

عمر کوٹ میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ عام انتخابات میں تو میچ فکس تھا لیکن اگلی باری ان کی ہوگی۔

عمران خان نے نئے چیف جسٹس کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے الیکشن کمیشن کو دو حلقوں میں عام انتخابات کے دوران ہونے والی دھاندلی کا پتہ چلانے کی ہدایت کی ہے: ’جب چار حلقوں کے انگوٹھے کے نشانات کا پتہ چلایا جائے گا تو یہ ثابت ہو جائے گا کہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی دھاندلی 11 مئی کو ہوئی تھی۔‘

اس سے قبل حیدرآباد کے ہوائی اڈے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ طالبان سے مذاکرات کے لیے مولانا فضل الرحمان سے کوئی امید نہیں لگانی چاہیے کیونکہ وہ اپنے دور حکومت میں بھی اس معاملے پر کچھ نہیں کر سکے تھے۔

انھوں نے کہا: ’مولانا فضل الرحمان تو 2002 سے 2007 تک پختونخوا میں برسرِاقتدار تھے لیکن اس دوران ہی تو یہ ساری تباہی شروع ہوئی اور بڑھتی گئی۔‘

عمران خان نے طالبان سے مذاکرات کے لیے جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ اور دفاعِ پاکستان کونسل کے چیرمین مولانا سمیع الحق کی حمایت کی اور کہا کہ مولانا سمیع الحق کو موقع ملنا چاہیے۔

عمران خان نے نیٹو سپلائی جاری رکھنے پر وفاقی حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ موجودہ حکومت بھی پچھلی حکومت کی طرح دوغلی پالیسی اپنائے ہوئے ہے کہ عوامی سطح پر تو مذمت کرتے ہیں لیکن اندر خانے انھوں نے اجازت دی ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ نیٹو سپلائی کے حوالے سے ہم امریکیوں پر بہت بڑا دباؤ ڈال سکتے ہیں، یہ طاقت ہے لیکن حکومت نے اسے استعمال نہیں کیا۔ ’خیبر پختونخوا حکومت نے اسے استعمال کیا ہے لیکن چمن کے راستے اب بھی نیٹو سپلائی ہو رہی ہے۔‘

عمر کوٹ میں جلسے کے دوران عمران خان نے کہا کہ وہ سندھ آنے کا وقت نہ ملنے کی وجہ سے عوام سے معافی مانگتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ صوبے کے ہر ڈسٹرکٹ میں جائیں گے۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف پاکستان کی جماعت ہے کسی ایک صوبے کی جماعت نھیں ہے۔ لوگ سندھ کی تقسیم کی بات کر رہے ہیں لیکن ہم لوگوں کو اکھٹا کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ ہم پاکستان کے تمام لوگوں کو عدل اور انصاف دے کر اکھٹا کریں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں امریکی ڈرون حملے کے بعد احتجاجاً صوبے سے نیٹو سپلائی افغانستان جانے سے روکنے کے لیے دھرنے دے رہی ہے جبکہ امریکہ نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر طورخم کے راستے نیٹو سپلائی روک دی ہے، تاہم صوبہ بلوچستان کے راستے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو سپلائی جاری ہے۔

رواں ماہ چار دسمبر کو امریکہ نے طورخم کے راستے افغانستان سے سامان کی ترسیل کا عمل معطل کر دیا تھا۔

امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف جاری احتجاج کے پیشِ نظر ڈرائیوروں کے تحفظ کی خاطر ایسا کیا گیا ہے۔

روکی جانے والی ترسیل میں زیادہ تر وہ فوجی ساز و سامان شامل تھا جو فوج کے بتدریج انخلا کے بعد امریکہ واپس بھیجا جا رہا تھا۔ یاد رہے کہ افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کا انخلا سنہ 2014 تک کیا جانا ہے۔ جبکہ امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق افغانستان میں بھیجے جانے والی رسد کا بڑا حصہ بہت پہلے ہی پاکستان کے حالات کے پیش نظر دیگر ممالک میں موجود متبادل راستوں پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

دوسری جانب امریکہ نے اپنی فوج کے لیے سال 2014 کے مجوزہ بجٹ میں کہا ہے کہ اگر پاکستان طورخم کے راستے نیٹو سامان کی واپسی کا راستہ کھولنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے بدلے میں ملنے والی امداد روک دی جائے گی۔

اسی بارے میں