’میرے بھائی کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے‘

Image caption گل بی بی بلوچ نے بتایا کہ رفیق تین بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے

بلوچستان کے ضلع خصدار کے علاقے نال کی رہائشی گل بی بی بلوچ کا دعویٰ ہے کہ ان کے بھائی رفیق بلوچ کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گل بی بی نے بتایا کہ ان کے بھائی مقامی سرکاری ہپستال میں ملازم تھے اور 13 اکتوبر کی شام کو ڈیوٹی کے بعد گھر آ رہے تھے کہ بازار میں دوگاڑیوں میں سوار افراد ان کو اٹھا کر لے گئے جس کے بعد سے ان کا تاحال کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رفیق تین بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے۔ انہوں نے مقامی پولیس تھانے سے بھی رابطہ کیا ہے لیکن پولیس نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ گل بی بی کا دعویٰ ہے کہ ان کے بھائی کا کسی سیاسی جماعت سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔

چار بچوں کے والد رفیق بلوچ کی ہمشیرہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشوں کے بارے میں پڑھ کر انہیں رفیق کی زندگی کے بارے میں خدشات لاحق رہتے ہیں کہ کہیں اس کا بھی دوسرے لاپتہ افراد کی طرح قتل نہ کر دیا جائے۔

دوسری جانب بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے لواحقین کا پیدل مارچ منگل کو لاڑکانہ میں داخل ہو رہا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ان کی جماعت لاپتہ بلوچوں کے اہل خانہ کے پیدل مارچ کا خیرمقدم کرے گی اور وہ ذاتی طور پر مارچ کے شرکا کے لیے رہائش، خوراک اور گرم کپڑوں کا بندوبست کر رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے بھی دو بیٹے لاپتہ ہیں اور وہ مارچ کے شرکا کا درد محسوس کر سکتے ہیں۔

مارچ کے روح رواں عبدالقدیر بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ساتھ کوئی بھی یکہجتی کے لیے آ کر شامل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان سے پاکستان پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت نے رابطہ کیا ہے، لیکن انہیں ان کی رہائش یا خوراک کی کوئی کی ضرورت نہیں تاہم یکہجتی کے لیے کسی کو روک نہیں سکتے۔

قدیر بلوچ کے مطابق مارچ کے شرکا جیسے جیسے پنجاب کے قریب پہنچ رہے ہیں، ان کے خدشات اور خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں پریشان اور ہراساں کرنے کے لیے مشتبہ افراد اور گاڑیاں ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہیں، سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود ان سے پولیس سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ستائیس اکتوبر کو کوئٹہ سے اس مارچ کا آغاز کیا تھا جو 22 نومبر کو کراچی میں داخل ہوا، جہاں تین ہفتے کے قیام کے بعد 14 دسمبر کو اسلام آباد کے لیے مارچ کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا گیا۔

کراچی سے لے کر لاڑکانہ تک سندھ کی قوم پرست جماعتوں، ادیبوں اور شہریوں نے مارچ کا جگہ جگہ خیرمقدم کیا۔

اسی بارے میں