کراچی میں ایک مزار سے چھ لاشیں برآمد

Image caption پولیس کو لاشوں کے ساتھ ایک خنجر اور چٹ بھی ملی ہے جس پر ’مزاروں پر جانا چھوڑ دو، تحریک طالبان‘ تحریر ہے

کراچی میں ایک مزار سے تین لاشیں ملی ہیں۔ پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ واقعہ مذہبی شدت پسندوں کی کارروائی ہوسکتی ہے۔

شہر کے مضافاتی علاقے گلشنِ معمار کے قریب واقع ایک مزار سے منگل کی صبح چھ لاشیں ملیں جن کے گلے کٹے ہوئے تھے تمام لاشوں کو عباسی شہید ہپستال منتقل کیا گیا ہے۔ چار لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے، جن کے نام منور، سلیم، جاوید، رمضان بتائے گئے ہیں۔

ایس ایس پی وسطی کراچی عامر فاروقی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے تین مزار کے مجاور تھے جبکہ تین دوسرے وہاں اکثر آیا کرتے تھے جو قریبی گاؤں کے رہائشی ہیں۔ انھوں نے شبہ ظاہر کیا کہ یہ واقعہ مذہبی شدت پسندوں کی کارروائی ہوسکتی ہے، تاہم ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

پولیس کو لاشوں کے ساتھ ایک خنجر اور چٹ بھی ملی ہے جس پر ’ مزاروں پر جانا چھوڑ دو، تحریک طالبان‘ تحریر ہے لیکن طالبان کی جانب سے فی الحال اس کارروائی کی ذمے داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ گلشن معمار، سہراب گوٹھ، کورنگی، منگھو پیر اور آس پاس کے علاقوں میں کالعدم تحریکِ طالبان کا اثر موجود ہے۔ سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی کیس کے دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں۔

کراچی میں اس سے پہلے عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر بھی خودکش حملہ کیا جاچکا ہے جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد آتی ہے۔ حملے کے خدشے کے باعث کئی روز تک مزار تو زائرین کے لیے بند کردیا گیا تھا۔

اسی بارے میں