عارضۂ قلب اور ذہنی دباؤ کے علاوہ سات اور بیماریاں

Image caption گذشتہ ہفتے سے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف راولپنڈی کے ایک فوجی ہپستال میں داخل ہیں

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی صحت سے متعلق خصوصی عدالت میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف کو عارضۂ قلب کے علاوہ سات مزید بیماریاں لاحق ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اُن کے دل کی ایک شریان بند ہے۔ اس کے علاوہ اُنھیں ریڑھ کی ہڈی کا عارضہ بھی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اُن کا ایک کاندھا بھی کام نہیں کر رہا اس کے علاوہ اُن کے جسم کی ہڈیوں میں سوزش ہے اور وہ ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سابق فوجی صدر کو لاحق بیماریوں میں خون میں کولیسٹرول کی نارمل سے زیادہ مقدار، گھٹنے کی تکلیف، داڑھ کا درد اور غدودِ مثانہ (پراسٹیٹ) کی سوجن بھی شامل ہے۔

غداری کے مقدمے میں پرویز مشرف کی وکلا ٹیم میں شامل فیصل چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ پرویز مشرف کی اینجیو گرافی کرنے کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا اُن کو بائی پاس سرجری کی ضرورت ہے یا نہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے دل کی حالت تشویش ناک ہے، تاہم رپورٹ میں تشویش کا اظہار نہیں کیا گیا۔ اس رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ ان بیماریوں کا علاج ملک میں یا بیرونِ ملک ہوسکتا ہے۔

اس مقدمے میں چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ کا کہنا ہے کہ اُنھیں ابھی تک ملزم پرویز مشرف کی صحت سے متعلق رپورٹ نہیں ملی۔

اس سے پہلے منگل کی صبح پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے کہا تھا کہ وہ ان کی صحت کے بارے میں رپورٹ پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ کرے گی۔

عدالت نے پرویز مشرف کو مزید دو دن کے لیے عدالت میں حاضری سے استثنٰی بھی دے دیا ہے۔

مقدمہ چلانا ہے تو پھر سب پر چلائیں: شجاعت

ادھر سیکرٹری دفاع نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کا اپنے سابق سربراہ کے خلاف غداری کے مقدمے سے کوئی تعلق نہیں۔

پرویز مشرف کو چند دن قبل عدالت میں پیشی کے لیے آتے ہوئے علیل ہونے پر راولپنڈی میں واقع آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ زیرِ علاج ہیں۔

منگل کو اسلام آباد میں غداری کے مقدمے کی سماعت کے موقع پر اے ایف آئی سی کے حکام نے ایک سربمہر لفافے میں سابق صدر کی میڈیکل رپورٹس عدالت میں پیش کیں۔

اس پر فریقین کے وکلا نے عدالت سے ان رپورٹس کی نقول طلب کیں جب کہ خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے کہا ہے کہ وہ رپورٹس کے بارے میں فریقین کے دلائل سننے کے بعد جمعرات کو حکم جاری کریں گے۔

عدالت نے اس معاملے کی سماعت بدھ تک کے لیے ملتوی بھی کر دی ہے۔

پیر کو عدالت نے اپنے حکم نامے میں اے ایف آئی سی کے سپرنٹینڈنٹ سے پرویز مشرف کی صحت کے بارے میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالتی حکم میں کہا گیا تھا کہ چونکہ پرویز مشرف نے اس مقدمے میں وکلا کی خدمات بھی حاصل کی ہیں اور انھوں نے اپنی رہائش گاہ بھی تبدیل نہیں کی اس لیے اُن کے گرفتاری کے وارنٹ جاری نہیں کیے جا رہے۔

ادھر سیکرٹری دفاع لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین ملک نے کہا ہے کہ فوج کا سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

منگل کو دفاع سے متعلق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ عدالتوں میں زیر سماعت ہے اور عدالتوں میں فوجی نہیں بلکہ جج بیٹھے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف اس ضمن میں جواب دے چکے ہیں کہ غداری کے مقدمے میں فوج مشرف کے ساتھ نہیں ہے۔

آصف یاسین ملک کا کہنا تھا کہ سابق فوجی صدر کے خلاف کورٹ مارشل سے متعلق فوج کو دی جانے والی درخواست اُن کے علم میں نہیں اور بہتر ہے کہ اس ضمن میں فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ سے رابطہ کیا جائے۔

راولپنڈی میں فوج کے زیر انتظام آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں علاج سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں سیکرٹری دفاع کا کہنا تھا کہ اس ادارے میں صرف مشرف ہی نہیں غیر ملکی سفیر بھی اپنا علاج کروانے کے لیے آتے ہیں۔

اسی بارے میں