بالکل نہیں، مشرف پر ڈیل کرانے نہیں آیا: سعودی وزیر خارجہ

Image caption سعودی وزیر خارجہ پاکستان کے دو روزہ دورے پر ہیں

سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے منگل کو اسلام آباد میں کہا ہے کہ وہ جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے معاملے پر کسی قسم کی کوئی ڈیل کرانے پاکستان نہیں آئے ہیں۔

اسلام آباد میں پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ پرویز مشرف کا معاملہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔

مقدمہ چلانا ہے تو پھر سب پر چلائیں: شجاعت

انھوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو محفوظ راستے دینے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں قہقہہ لگایا اور کہا کہ ’بالکل نہیں، ہم دوسری ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصولوں پر قائم ہیں اور خاص کر ایک دوست ملک کے اندرونی معاملات میں۔۔۔۔ یہ ہم ہماری اندرونی پالیسی کا عام اصول ہے۔‘

سعودی وزیر خارجہ کے تقریباً چھ سال کے بعد پاکستان کے اپنے پہلے دورے کے موقع پر مقامی ذرائع ابلاغ میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ سعودی وزیر خارجہ پاکستانی حکومت سے پرویز مشرف کو محفوظ راستہ دینے سے متعلق بات کریں گے۔

اس موقع پر سرتاج عزیز نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں باہمی تعلقات پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام مذہبی عقائد اور اقدار میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہیں، خطے میں امن کے لیے دونوں ممالک کا مؤقف یکساں ہے اور سعودی عرب میں مقیم 15 لاکھ پاکستانی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری کے لیے کوشاں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں نواز شریف نے سعود الفیصل کو معاشی منصوبوں سے آگاہ کیا اور ہم معاشی ترقی میں سعودی عرب کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

پاکستان ایک خصوصی مشن پر آنے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ’میرا واحد مشن دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے شاہ عبداللہ کا پیغام پہنچانا ہے۔‘

سعودی وزیر خارجہ نےمشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ’ملاقات میں گفتگو کا محور افغانستان رہا اور دونوں ممالک چاہتے ہیں کہ وہاں سے غیر ملکی افواج کی واپسی کے بعد پیدا ہونے والے انخلا سے کوئی غیر ملکی قوت ناجائز فائدہ نہ اٹھائے۔‘

Image caption پرویز مشرف پاکستانی فوج کے امراضِ دل کے ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں

خیال رہے کہ پاکستان کی وازتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی وزیر خارجہ کا دورے پہلے سے طے شدہ تھا تاہم مقامی میڈیا میں اس وضاحت کے باوجود مقامی میڈیا میں قیاس آرائیوں کا طوفان کھڑا ہو گیا تھا کہ سعودی وزیر خارجہ ایک اہم مشن پر پاکستان آ رہے ہیں اور ان کے دورے کے نتیجے میں پرویز مشرف علاج کے لیے بیرون ملک جا سکتے ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ کی آمد سے پہلے جب پرویز مشرف کے بیرون ملک جانے کی قیاس آرائیاں عروج پر تھیں تو اس وقت وزیراعطم نواز شریف نے کہا تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ کسی فردِ واحد کے خلاف مقدمہ نہیں اور اس میں اصل مدعی پاکستان کی ریاست ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالت کو ہی فیصلہ کرنا ہے کہ تین نومبر کو ریاست کی توہین ہوئی ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں