پاکستان: غیرت کے نام پر قتل کے ہولناک واقعات

Image caption رخسانہ بی بی نے غیر معمولی اقدام اٹھایا اور وہ چاہتی ہیں کہ انھیں انصاف ملے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے اکوڑہ خٹک کے ایک گاؤں میں اگست کی ایک گرم مرطوب رات کو ایک چھوٹا گروپ مٹی کی اینٹوں سے بنے مکان میں داخل ہوا۔

تاریک صحن میں انھیں دو چار پائیوں پر ایک مرد اور ایک عورت سوئے ہوئے ملے اور 15 منٹ کے بعد جب وہ مکان کے مرکزی دروازے سے باہر جا رہے تھے تو مرد اور عورت خون میں نہائے ہوئے تھے۔

یہ واقعہ پاکستان اور افغانستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی ایک کڑی ہے۔ اس خطے میں تواتر سے پیش آنے والے اس نوعیت کے واقعات پر کم ہی بات کی جاتی ہے۔

خیبر پختونخوا کے دور افتادہ ضلع کوہستان میں اس نوعیت کے اقدام پختہ ارادے سے کیے جاتے ہیں۔

ضابطہ اخلاق بہت سادہ ہے: مرد اور عورت میں کوئی تعلق، یہاں تک کہ نکاح کے بغیر بات چیت خاتون کے خاندان کے عزت کے خلاف سمجھی جاتی ہے اور اسے خونی بدلے کا پورا حق ملتا ہے۔

خاتون کے خاندان کو ہر صورت میں پہلے اپنی خاتون کو قتل کرنا ہو گا اور پھر مرد کے پیچھے جانا ہوگا۔

خاتون کے خاندان کے لیے فقط شک ہی کافی سمجھا جاتا ہے اور برادری اس ضمن میں مزید شواہد طلب نہیں کرتی ہے۔

جب ایک دفعہ شک کا اظہار کر دیا جائے تو مقامی روایات قتل ہونے والے مرد کے خاندان کو بدلہ لینے یا مقامی پولیس کو واقعے کی اطلاع دینے سے روکتی ہیں۔

لیکن غیرت کے نام پر قتل کو ثابت کرنا یا عدالتی کارروائی کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ اسے جرائم کے عینی شاہدین نہیں ہوتے اور شواہد سے قطع نظر پولیس بھی مشتبہ قاتل کو پکڑنے میں کم ہی دلچسپی لیتی ہے۔

بیوہ رخسانہ بی بی اس روایت کو تبدیل کرنے کے لیے پرامید ہیں اور وہ خود بھی اکوڑہ خٹک کے قریب ایک گاؤں میں غیرت کے نام قتل ہونے سے بچ گئیں تھیں۔

اب انھوں نے غیر معمولی اقدام اٹھاتے ہوئے قانونی نظام سے انصاف حاصل کرنے کی کوشش شروع کی ہے۔

رخسانہ بی بی کو اس وقت چھاتی اور ٹانگ پر گہرے زخم آئے جب انھیں اپنے خاوند کے ساتھ اکوڑہ خٹک کے ایک گاؤں میں واقع اپنے مکان کے صحن میں سوتے وقی ایک قاتلانہ حملے میں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ ان کے شوہر کو قتل کر دیا گیا لیکن رخسانہ بی بی سات گولیاں لگنے کے باوجود زندہ بچ گئیں۔ ان میں دو گولیاں ان کی چھاتی، تین ٹانگ اور دو کولہے پر لگیں۔

18 سالہ رخسانہ بی بی نے محمد یونس کے ساتھ گذشتہ سال 22 مئی کو بھاگنے کا ارادہ کیا تھا کیونکہ ان کے پاس اس کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا۔

انھوں نے ایک نامعلوم مقام پر ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ کر مجھے بتایا کہ’ یا تو میں خود کو مار لیتی یا پھر بھاگ جاتی۔‘

رخسانہ بی بی کی اپنے شوہر محمد یونس جو میڈیکل ٹیکنالوجی کے طالب علم تھے، سے ملاقات سال 2011 میں ایک گاؤں میں شادی کی تقریب میں ہوئی اور دونوں پہلی ہی نظر میں محبت میں گرفتار ہو گئے۔

اگرچہ ان دونوں کی ملاقات بہت ہی کم ہو پاتی تھی لیکن ایک دوسرے کے ساتھ موبائل فون پر اکثر بات کرتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ اپریل میں معاملات اس وقت خراب ہوئے جب ان کے خاندان نے ان کی شادی ایک دور کے رشتہ دار سے کرنے کا فیصلہ کیا جو ناخواندہ اور مویشی پالنے کا کام کرتا تھا:

’مایوسی اور افسردگی کے عالم میں ہم دونوں نے بھاگنے کا فیصلہ کیا‘۔ انھوں نےاکوڑہ خٹک میں روپوش ہونے سے پہلے شادی کر لی تھی۔

رخسانہ بی بی کو پورا یقین ہے کہ قاتلانہ حملے میں ان کے وہ رشتہ دار ملوث تھے جو ان کے اقدام سے خوش نہیں تھے اور اپنے خاندان کی بے عزتی کا بدلہ لینے کی خاطر اگست میں ان پر وحشیانہ حملہ کیا گیا۔

انھوں نے آبدیدہ آواز میں حملے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے قدموں کی آواز سنی، میں نے اپنی آنکھیں کھولیں، وہ مسلح تھے اور میں جان گئی کہ ہماری زندگی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ تو میں نے سوئے ہوئے شوہر کو چیخ کر پکارا، حملہ آوروں نے امکانی طور پر روایت کے مطابق پہلے مجھ پر گولیاں چلائیں، اور پھر میرے شوہر کو بستر سے نیچے اتار کر اس کو گولیاں ماری۔‘

رخسانہ بی بی نے پہلے درد بھری آوازیں نکالیں لیکن بعد میں خود کو مردہ ظاہر کیا۔ فائرنگ ہمسایوں نے سنی تھی اور حملہ آوروں کے جانے کے 15 منٹ کے بعد وہ آئے اور انھیں ہسپتال منتقل کر دیا۔

رخسانہ بی بی نے حملہ آوروں کو پہچان لیا تھا اور ان کے نامزد کردہ حملہ آوروں میں سے بعض کے پولیس کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے۔

رخسانہ بی بی کی جانب سے نامزد کردہ ملزمان میں سے ایک شخص سے جب بی بی سی نے رابطہ کیا تو اس نے تردید کی کہ وہ رخسانہ بی بی کے رشتہ دار ہیں اور وہ نہ ہی حملے میں ملوث ہیں، جبکہ بقول اس کے رخسانہ بی بی نے غلطی سے ایک دوسرے شخص کو نامزد کیا ہے۔

آیا رخسانہ بی بی کا کیس کبھی عدالت کے سامنے پیش ہو گا ابھی تک واضح نہیں ہے۔ ان کے الزامات ابھی تک ثابت نہیں ہو سکے ہیں اگرچہ رخسانہ بی بی نے پولیس کو جن مشتبہ افراد کے نام بتائے ہیں ان میں سے بعض کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں لیکن ابھی انھیں نہیں لگتا ہے کہ پولیس نے کوئی گرفتاری کی یا کسی سے پوچھ گچھ کی۔

عدالتوں میں اس طرح کے کیس مشکل ہوتے ہیں لیکن رخسانہ بی بی کے مطابق ’جب بھی میں عدالت میں سماعت کے لیے جاتی ہوں تو اپنے جسم میں تکلیف محسوس نہیں کرتی۔ بہرصورت میں ایک مردہ عورت ہوں اور میں اپنے اور اپنے شوہر کے لیے انصاف چاہتی ہوں۔ کیونکہ ہم نے کچھ غلط نہیں کیا۔‘

صدیوں تک کوہستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی بہت کم اطلاع ملتی تھی لیکن حالیہ سالوں میں یہاں سے کئی واقعات کی اطلاعات آئی ہیں اور اس میں ایک بڑی وجہ موبائل فون کے استعمال کا فروغ ہے اور اس کی وجہ غیرت کے نام پر قتل کے ضابطے میں اختلافات ابھر کر سامنے آئے۔

مئی سال 2012 میں روایت سے ہٹ کر ایک واقعہ پیش آیا۔ کوہستان کے علاقے میں ایک موبائل ویڈیو کا تبادلہ ہونا شروع ہوا جس میں کچھ خواتین اور مرد رقص اور تالیاں بجاتے ہوئے نظر آئے۔

مبینہ طور پر خواتین کے خاندان کے چند مردوں نے طے کیا کہ یہ حرکت باعث شرمندگی ہے اور اطلاعات کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والی چاروں خواتین کو مار دیا گیا جبکہ پیغام رساں نظر آنے والی ایک پانچویں خاتون کو بھی مار دیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے مرد کے خاندان کے تین بھائیوں کو بھی مار دیا۔

Image caption کوہستان میں مبینہ طور پر خواتین کو قتل کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ اور حقوق انسانی کے تنظیموں نے اٹھایا

لیکن اس پر ایک تنازع پیدا ہو گیا جس میں قتل ہونے والے بھائیوں کے خاندان نے شکایت کی کہ خواتین کے رشتہ داروں کو ویڈیو میں نظر آنے والے صرف دو مرد قتل کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس پر خواتین کے خاندان نے کہا کہ جب انھوں نے روایت کے مطابق پانچ خواتین کو قتل کیا تو ان کا حق بھی ہے کہ وہ پانچ مردوں کو قتل کریں۔

یہ کیس سپریم کورٹ اور حقوق انسانی کے کارکنوں نے اٹھایا لیکن مقامی پیچیدگیوں کے سبب یہ کیس حل نہیں ہو سکا۔

اس واقعے کے بعد کوہستان میں پولیس نے سات کیس درج کیے ہیں جن میں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر دس افراد کو قتل کیا گیا جن میں سات خواتین شامل تھیں۔

اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ خواتین کے خاندان ان کو داغ سمجھتے ہیں اور بعض معاملات میں آسانی سے دستیاب بیرونی مدد حاصل کرنے کی بجائے مرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔

لیکن رخسانہ بی بی کے طرح اور بہت سارے لوگ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی پولیس کو اطلاع دینا چاہتے ہیں اور یہ تبدیلی کا ایک اشارہ ہے۔

رخسانہ بی بی کے مطابق نئی نسل تبدیل ہو رہی ہے اور انھیں صرف عدلیہ اور حکومت سے تھوڑی سی مدد چاہیے۔

اسی بارے میں