غداری کیس: فوجداری قانون نافذ کرنے سے متعلق فیصلہ محفوظ

Image caption سماعت کے دوران خصوصی عدالت کے احاطے میں صحافیوں کو کوریج سے روکا گیا جس پر سکیورٹی اہلکاروں اور میڈیا ٹیم کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سابق صدر پرویز مشرف کےخلاف غداری کے مقدمے میں خصوصی عدالت نے غداری کے مقدمے پر فوجداری کا قانون نافذ کرنے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

اس مقدمے میں چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ کا کہنا ہے کہ فوجی ایکٹ کے تحت ٹرائل کیے جانے والے مقدمات بھی ضابطہ فوجداری کے تحت ہی آتے ہیں اس لیے خصوصی عدالت کو اس مقدمے میں ملزم کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے اور اس مقدمے کی سماعت کا اختیار حاصل ہے۔

عدالت پرویز مشرف کی صحت سے متعلق اے ایف آئی سی کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ پر نو جنوری کو فیصلہ سُنائے گی۔

یاد رہے کہ سابق فوجی صدر نے اُن کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کی تشکیل اُس کے دائرہ سماعت کا اختیار اور اس مقدمے میں چیف پراسیکیوٹر کی تعیناتی کے خلاف تین درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے بدھ کو مقدمے کی سماعت کی۔

اکرم شیخ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نہ صرف آیینی ہے بلکہ اس کو فوجداری دفعات کے تحت مقدمے کی کارروائی کو آگے بڑھانے کا اختیار بھی حاصل ہے۔

سماعت کے دوران خصوصی عدالت کے سربراہ فیصل عرب نے اکرم شیخ سے استفسار کیا کہ کیا میں اس مقدمے میں ضمانت کی کوئی گُنجائش ہے یا اس پر ضابطہ فوجداری کا اطلاق ہوتا ہے جس پر چیف پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ قانون میں ملزم کے وارنٹ جاری کرنے اور اُسے عدالت میں پیش کرنے سے متعلق طریقہ کار دیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت جرائم کو ضابطہ فوجداری کے تابع کیا گیا ہے۔ اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ غداری کا مقدمہ بھی ضابطہ فوجداری کے تحت ہی آتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سنہ 1975 کے ایکٹ کے تحت ہی انسداد دہشت گردی کی عدالتیں عمل میں لائی گئی ہیں اور غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے کے تشکیل دی جانے والی عدالت کا ایکٹ بھی اسی نوعیت کا ہے۔

پرویز مشرف کے وکیل انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ خصوصی کورٹ ایکٹ کے تحت تشکیل پانے والی عدالت کو ضابطہ فوجداری کے تحت اختیارات استما کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

م پرویز مشرف کی صحت سے متعلق اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ وہ اس ضمن میں تحریری جواب داخل کراوئیں گے جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس کی ضرورت نہیں ہے بلکہ زبانی دلائل ہی دے دیں۔

سماعت کے دوران پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے کہا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل میں کوئی ابہام نہیں اور وہ فوجداری مقدمہ سن سکتی ہے۔

انھوں نے خصوصی عدالت پر ضابطۂ فوجداری کے اطلاق سے متعلق دلائل دیتے ہوئے کہا کہ خصوصی عدالت کے قانون میں کوئی سقم نہیں، جہاں کوئی کمی ہے وہاں عمومی اور ریاستی قوانین کا اطلاق ہوتا ہے۔

اس مقدمے کی سماعت کو جمعرات تک کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب آج بھی سماعت کے دوران خصوصی عدالت کے احاطے میں صحافیوں کو کوریج سے روکا گیا جس پر سکیورٹی اہل کاروں اور میڈیا ٹیم کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

خیال رہے کہ اس کیس کی سماعت کے لیے خصوصی عدالت اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع نیشنل لائبریری میں قائم کی گئی ہے، جس کے اطراف سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں