نجکاری کمیشن کی منظوری:پی آئی اے کو بیچ دیں

Image caption پی آئی اے ایک طویل عرصے سے خسارے کا شکار ہے

پاکستان کے نجکاری کمیشن نے ملک کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے سمیت اہم اداروں کو جزوی طور پر نجی ملکیت میں دینے کی منظوری دے دی ہے۔

بورڈ نے ان تمام اداروں کے ملازمین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

اہم قومی اداروں کی فروخت کی منظوری کا فیصلہ بدھ کو کمیشن کے خصوصی اجلاس میں کیا گیا جس کی سربراہی نجکاری کمیشن کے سربراہ محمد زبیر نے کی اور اس میں بورڈ کے نامزد ارکان اور سیکرٹری نجکاری بھی شریک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق نجکاری بورڈ کمیشن کے اجلاس میں پی آئی اے کے 26 فیصد حصص فروخت کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فروخت کیے جانے والے حصص میں ایسے اثاثے شامل ہیں جن کی کوئی سٹریٹجک حیثیت نہیں اور اس کا حتمی فیصلہ اس عمل کے لیے تعینات کیے جانے والے مالیاتی مشیر کی رپورٹوں کی روشنی میں کیا جائے گا۔

اجلاس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے علاوہ ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس اور نیشنل پاور کنسٹرکشن کمپنی لمیٹڈ کی نجکاری کی منظوری دی گئی جنہیں اب حتمی منظوری کے لیے کابینہ کی نجکاری کمیٹی میں پیش کیا جائے گا۔

نجکاری سے متعلق اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل نجکاری کمیشن کے بورڈ کا یہ اجلاس ہی حتمی منظوری سمجھا جاتا ہے اور ایسا بہت کم ہی ہوا ہے کہ کبھی اس بورڈ کے فیصلوں کو واپس کیا گیا ہو۔

جمعرات کو بورڈ کے دوسرے روز کے اجلاس میں نجکاری کے اس عمل کے لیے مالیاتی مشیر مقرر کرنے کے عمل کے علاوہ بینکوں کی نجکاری کی منظوری کا امکان ہے۔

نجکاری بورڈ کے اس اجلاس سے متعلق بی بی سی کے پاس دستیاب دستاویزات کے مطابق اس اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت کو پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے پانچ فیصد شیئرز بیچنے سے 20 ارب روپے، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے دس فیصد شئیرز سے 70 سے 80 ارب روپے، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کے دس فی صد شیئرز سے 15 ارب روپے، حبیب بینک لمیٹڈ کے 20 فیصد شیئرز سے 40 سے 50 ارب روپے اور الائیڈ بینک کے دس فی صد شیئرز کی فروخت سے 10 ارب روپے ملنے کی توقع ہے۔

اجلاس میں اس بات پربھی غورکیا گیا کہ پاکستان سٹیل ملز، ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس، اسلام آباد اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، تھرمل پاورسٹیشن مظفرگڑھ اور نیشنل پاور کنسٹرکشن کمپنی کے آدھے یا اس سے زیادہ جبکہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) اور پی آئی اے انوسٹمنٹ لمیٹڈ کے 25 فیصد یا اس سے زیادہ شیئرز بیچنے سے کیا معاشی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

حکومت نےگذشتہ سال دسمبرکے وسط میں اپنے معاشی تھنک ٹینک کے اہم رکن محمد زبیر کو پرائیویٹائزیشن کمیشن کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ محمد زبیر حکومت کی مخالف جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما اسد عمر کے بھائی ہیں۔

اسی بارے میں