وزیرستان: فوجی چوکی پر حملہ،’تین اہلکاروں سمیت 13 ہلاک‘

Image caption پاکستان کے قبائلی علاقوں میں فوج کی چوکی پر حملے کا ایک ماہ میں یہ دوسرا واقعہ ہے

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ ملک کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں جھڑپ کے دوران تین اہلکار اور دس شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی نے پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ جھڑپ بدھ کی شب اس وقت ہوئی جب شدت پسند ایک فوجی چوکی پر حملہ آور ہوئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق شدت پسندوں نے رات آٹھ بجے کے قریب گرین ریج چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔

فوج کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے اس حملے کو ناکام بنا دیا گیا اور اس کارروائی کے دوران تین فوجی جوان بھی ہلاک ہوئے۔

پاکستانی فوج نے جوابی کارروائی میں دس حملہ آوروں کو بھی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں فوج کی چوکی پر حملے کا ایک ماہ میں یہ دوسرا واقعہ ہے۔

اس سے قبل گذشتہ ماہ شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں واقع کھجوری چیک پوسٹ پر خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں متعدد پاکستانی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

اس حملے کے بعد علاقے میں فوجی کارروائی بھی کی گئی تھی جبکہ ایجنسی میں چھ دن تک کرفیو بھی نافذ رہا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستان میں موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد ملک میں شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کر کے امن قائم کرنے کی پالیسی کا اعلان کیا تھا اور اس سلسلے میں ایک کُل جماعتی کانفرنس بھی کی گئی۔ تاہم یکم نومبر کو تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد یہ عمل پٹری سے اتر گیا تھا۔

حال ہی میں پاکستانی میڈیا میں ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ وفاقی حکومت نے کالعدم تحریک طالبان سے ایک بار پھر سے بات چیت شروع کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں وزیراعظم نواز شریف نے جمعیت علمائے اسلام س کے سربراہ مولانا سمیع الحق سے اسلام آباد میں ملاقات میں انھیں طالبان سے بات چیت کا عمل شروع کرنے کی درخواست کی۔

مولانا سمیع الحق کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا طالبان کے مختلف دھڑوں پر خاصا اثر و رسوخ ہے اور وہ حکومت کو طالبان سے بات چیت میں تعاون کی پیشکش بھی کر چکے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے ایک تھنک ٹینک نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ سنہ 2012 کے مقابلے میں پچھلے سال شدت پسندی کی کارروائیوں میں نو فیصد اضافہ جبکہ ان کارروائیوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں انیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔