دلیر چوہدری کی دلیر بیوہ

Image caption میں نے فوری ٹی وی کھولا اس کے بعد ہپستال کی طرف دوڑ لگائی، جہاں ان کی ہلاکت کا معلوم ہوا: نورین اسلم

کراچی میں جمعرات کو ایک بم حملے میں ہلاک ہونے والے ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم نے دھماکے سے چند منٹ پہلے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنی بیگم کو رہائش تبدیل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

چوہدری اسلم کی بیگم نورین اسلم نے بتایا کہ دھماکے سے چند منٹ قبل انھوں نے اپنے شوہر کو ٹیلیفون کیا تھا، جس کے دوران چوہدری اسلم نے رہائش کی تبدیلی کا کہا تھا لیکن اہلیہ نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ ’آج موڈ نہیں ہے، کل دیکھیں گے۔‘

اس بات چیت کے بعد گھر میں ہی نورین اسلم نے دھماکے کی آواز سنی۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے سوچا کہ ہوسکتا ہے ٹائر برسٹ ہونے کی آواز ہو۔

نورین اسلم کے مطابق اسی وقت انھیں ان کے ایک رشتے دار نے ٹیلی فون پر بتایا کہ چوہدری اسلم پر حملہ ہوا ہے۔ وہ کہتی ہیں ’میں نے فوراً ٹی وی کھولا اس کے بعد ہپستال کی طرف دوڑ لگائی، جہاں ان کی ہلاکت کا علم ہوا۔‘

2011 میں بھی کراچی کے علاقے ڈیفینس میں واقع چوہدری اسلم کے گھر پر حملہ کیا گیا تھا۔ نورین اسلم کے مطابق اُس روز وہ اور ان کے بچے گھر میں ہی موجود تھے اور وہ معجزانہ طور پر بچ گئے۔ اس حملے کے بعد وہ گھر تبدیل کرتے رہتے تھے اور یہ ان کی مجبوری تھی۔

ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کی آخری کارروائی تین شدت پسندوں کی مبینہ مقابلے میں ہلاکت تھی۔ ان کی بیگم نے بتایا کہ اس کارروائی کے بعد فارغ ہوکر وہ گھر آئے تو میں نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ صحیح نہیں ہے، دنیا کے لیے یہ دو تین دنوں کی بات ہوگی، پریشانی آپ کے بچوں اور مجھے ہے۔

وہ کہتی ہیں ’چوہدری نے کہا کہ تم کیسی مسلمان ہو، بندہ سوچ میں پڑ جاتا ہے۔ سوچو نہیں جو کرے گا رب کرے گا۔‘

نورین اسلم کے مطابق چوہدری اسلم ان سے اکثر باتیں شیئر نہیں کرتے تھے۔ ’وہ کہتے تھے کہ موت کا جو دن مقرر ہے اس دن جانا ہے۔ شادی کے سترہ سالوں میں انہوں نے اپنے شوہر کو کبھی خوف زدہ نہیں دیکھا۔‘

چوہدری اسلم کے چار بچے ہیں، اور ان کی بیگم بتاتی ہیں کہ تین میں سے دو بیٹوں کے بارے میں ان کی خواہش تھی کہ وہ سندھ پولیس میں بھرتی ہوں۔

نورین اسلم کا کہنا تھا کہ قوم کو نیا چوہدری مل جائے گا لیکن ان کے بچوں کو چوہدری اسلم جیسا باپ نہیں ملے گا۔ ’اس مٹی اور وطن کے لیے اس نے جان دینی تھی اور دے چکا ہے ورنہ ہر بندہ اپنے مشن کو موڑ لیتا ہے۔ جن کے گھر اڑا دیے جاتے ہیں وہ اپنا طریقہ بدل لیتے ہیں لیکن چوہدری صاحب نے کبھی اپنے طریقے کو نہیں بدلا۔‘

نورین اسلم نے شوہر کی ہلاکت کے بعد میڈیا سے دلیری سے بات کی، اور کہیں کمزور نظر نہیں آئیں۔

’میں چوہدری کی بیوی ہوں، مضبوط بنا کر جانے والے بھی وہ ہی ہیں۔ انہوں نے زندگی میں کہا تھا کہ بہت ہمت اور دلیری سے لڑنا کیونکہ مجھے میری زندگی کی صبح اور شام کا کوئی پتہ نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں