سٹیل ملز کو نجی ملکیت میں دینے کی منظوری

Image caption 2006 میں بھی سٹیل مل کی نجکاری کی کوشش کی گئی تھی

پاکستان کے نجکاری کمیشن نے پاکستان سٹیل ملز، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور تین بینکوں کو جزوی طور پر نجی ملکیت میں دینے کی منظوری دے دی ہے۔

یہ فیصلے جمعرات کو کمیشن نے دو رورزہ اجلاس کے اختتامی دن کیے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں کمیشن کے چیئرمین محمد زبیر کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں پاکستان سٹیل ملز، اسلام آباد اور فیصل آباد کی الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کے کم از کم 51 فیصد حصص کی نجکاری کی منظوری دی گئی۔

کمیشن نے آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی، الائیڈ اور یونائیٹڈ بینک کے بھی دس، دس فیصد جبکہ حبیب بنک کے بیس فیصد حصص نجی ملکیت میں دینے کی منظوری دی۔

اس کے علاوہ پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے پانچ فی صد شیئرز فروخت کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے ملازمین نے نجکاری کے اس عمل کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے اور اس کے پہلے مرحلے میں اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا ہے۔

نجکاری کمیشن کے اجلاس میں نجکاری کے عمل کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ حکومتی وعدوں کے مطابق مالیاتی مشیر مقرر کرنے کا بھی اصولی فیصلہ کیا گیا۔ ان مشیروں کا کام اپنے پیشہ ورانہ تجربے کی روشنی میں نجکاری کے عمل کے لیے حکومت کو مشورے دینا ہوگا۔

اس کے علاوہ پاکستان ریلوے کی خدمات اور کاروباری استعداد بڑھانے اور ادارہ جاتی فریم ورک میں بہتری کے لیے بھی مارچ کے آخر تک الگ سے مشیر مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔

خیال رہے کہ بدھ کو نجکاری کمیشن نے ملک کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے 26 فیصد حصص فروخت کرنے کی منظوری دی تھی۔

پی آئی اے کے علاوہ ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس اور نیشنل پاور کنسٹرکشن کمپنی لمیٹڈ کے بھی 51 فیصد حصص نجی ملکیت میں دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

ان فیصلوں کو اب حتمی منظوری کے لیے کابینہ کی نجکاری کمیٹی میں پیش کیا جائے گا۔

نجکاری سے متعلق اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل نجکاری کمیشن کے بورڈ کا یہ اجلاس ہی حتمی منظوری سمجھا جاتا ہے اور ایسا بہت کم ہی ہوا ہے کہ کبھی اس بورڈ کے فیصلوں کو واپس کیا گیا ہو۔

خیال رہے کہ سنہ 2006 میں بھی اس وقت کی حکومت نے سٹیل ملز کی نجکاری کی تھی اور روسی، سعودی اور پاکستانی نجی کمپنیوں کے کنسورشیم نے 21 ارب 67 کروڑ روپے کی بولی دے کر پاکستان سٹیل کے 75 فیصد حصص حاصل کیے تھے۔ تاہم پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے سٹیل ملز کی فروخت کو غیرقانونی قرار دے دیا تھا اور یوں یہ عمل مکمل نہیں ہو سکا تھا۔

سوویت یونین کی مالی اور تکنیکی مدد سے بننے والی سٹیل ملز کا شمار پاکستان کے بڑے منصوبوں میں ہوتا رہا ہے، تاہم یہ ایک عرصے سے خسارے میں تھی اور گذشتہ حکومت کے دور میں اسے دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے امدادی مالیاتی پیکیج بھی دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں