غداری کیس میں ضابطہ فوجداری کا اطلاق ہو گا: خصوصی عدالت

Image caption سابق صدر پرویز مشرف کو خصوصی عدالت نے پہلے ہی 16 جنوری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے پر فوجداری کا قانون نافذ کرنے سے متعلق فیصلے میں کہا ہے کہ ضابطہ فوجداری کا اطلاق ہو گا۔

واضح رہے کہ بدھ کو سابق صدر پرویز مشرف کےخلاف غداری کے مقدمے میں خصوصی عدالت نے غداری کے مقدمے پر فوجداری کا قانون نافذ کرنے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

جمعہ کو خصوصی عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ غداری کے مقدمے میں ضابطہ فوجداری کا اطلاق ہو گا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ جہاں ضرورت پڑے گی ضابطہ فوجداری کا اطلاق ہو گا۔

پرویز مشرف کے وکلا نے خصوصی عدالت میں نو جنوری کو جاری کیے گئے فیصلے پر حکم امتناعی کی درخواست دائر کی تھی۔ تاہم خصوصی عدالت نے یہ درخواست خارج کردی ہے۔

خصوصی عدالت کے رجسٹرار عبدالغنی سومرو نے مختصر فیصلہ سُناتے ہوئے کہا کہ عدالت کو اپنے ہی فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

نو جنوری کو خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کی میڈیکل رپورٹ پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کو 16 جنوری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

اس سے پہلے پرویز مشرف کے وکیل انور منصور نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پہلے عدالت اُن تین درخواستوں سے متعلق فیصلہ دے جو عدالت کی تشکیل اُس کے دائرہ سماعت اور چیف پراسیکیوٹر کی تعیناتی سے متعلق دائر کی گئی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ان درخواستوں میں اگر عدالت میں اُن کے موقف کو تسلیم کرلیا تو پھر عدالت کے نو جنوری کے فیصلے کی کیا قانونی حثیت ہوگی۔

اس مقدمے میں چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ عدالت اپنے فیصلے کو خود ہی واپس نہیں لے سکتی۔

اُنھوں نے کہا کہ کسی بھی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے اور وہ بھی اُسی صورت میں جب کسی مقدمے سے متعلق ماتحت عدالت کوئی حتمی فیصلہ دے دے لیکن اس مقدمے میں ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ اس مقدمے میں چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ فوجی ایکٹ کے تحت ٹرائل کیے جانے والے مقدمات بھی ضابطہ فوجداری کے تحت ہی آتے ہیں اس لیے خصوصی عدالت کو اس مقدمے میں ملزم کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے اور اس مقدمے کی سماعت کا اختیار حاصل ہے۔

یاد رہے کہ سابق فوجی صدر نے اُن کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کی تشکیل اُس کے دائرہ سماعت کا اختیار اور اس مقدمے میں چیف پراسیکیوٹر کی تعیناتی کے خلاف تین درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

بدھ کو اکرم شیخ نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نہ صرف آئینی ہے بلکہ اس کو فوجداری دفعات کے تحت مقدمے کی کارروائی کو آگے بڑھانے کا اختیار بھی حاصل ہے۔

سماعت کے دوران خصوصی عدالت کے سربراہ فیصل عرب نے اکرم شیخ سے استفسار کیا کہ کیا اس مقدمے میں ضمانت کی کوئی گُنجائش ہے یا اس پر ضابطہ فوجداری کا اطلاق ہوتا ہے جس پر چیف پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ قانون میں ملزم کے وارنٹ جاری کرنے اور اُسے عدالت میں پیش کرنے سے متعلق طریقہ کار دیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت جرائم کو ضابطہ فوجداری کے تابع کیا گیا ہے۔ اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ غداری کا مقدمہ بھی ضابطہ فوجداری کے تحت ہی آتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سنہ 1975 کے ایکٹ کے تحت ہی انسداد دہشت گردی کی عدالتیں عمل میں لائی گئی ہیں اور غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے کے تشکیل دی جانے والی عدالت کا ایکٹ بھی اسی نوعیت کا ہے۔

اسی بارے میں