اسلم اور اعتزاز کو خراج عقیدت، اعتزاز کے لیے ستارۂ شجاعت کی سفارش

Image caption چوہدری اسلم کا لیاری آپریشن اور طالبان کے خلاف کارروائیوں میں اہم کردار تھا

وزیر اعظم نواز شریف نے ہنگو کے نویں جماعت کے طالب علم اعتزاز حسن کو ستارۂ شجاعت دینے کے لیے صدر ممنون حسین کو سفارش کی ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اعتزاز حسن کے اس دلیرانہ اقدام کی وجہ سے نہ صرف سینکڑوں طالب علموں کی زندگیاں بچ گئی ہیں بلکہ اُنھوں نے بہادری اور حب الوطنی کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔

قبل ازیں پاکستانی پارلیمان کے ایوانِ بالا نے کراچی میں شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہونے والے سندھ پولیس کے افسر چوہدری اسلم اور ہنگو میں سکول پر خودکش حملے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے جان دینے والے طالبعلم اعتزاز حسن کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے متفقہ قرارداد منظور کی۔

ادھر خیبر پختونخوا کے پولیس سربراہ نے بہادری کا مظاہرہ کرنے پر اعتزاز حسن کو ایوارڈ دینے کی بھی سفارش کی ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق جمعے کو جب سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا تو پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر سعید غنی نے ایک قرارداد پیش کی جس میں چوہدری اسلم اور اعتزاز حسن کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔

قرارداد میں شدت پسندوں کے حملوں کو ظالمانہ قرار دیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ چوہدری اسلم کے اہلِ خانہ اور دیگر افسران کی حفاظت کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

ایوان میں متفقہ طور پر یہ قرارداد منظور کرتے ہوئے ان دونوں کی روحوں کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اجلاس کے دوران عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان نے چوہدری اسلم کی ہلاکت کی وجہ سندھ حکومت کی کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر کنٹرول میں ناکامی کو قرار دیا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ چوہدری اسلم جیسے بہادر افسر کی ہلاکت سے ظاہر ہے کہ شہر میں پولیس کی ’رٹ‘ ختم ہوتی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی شہر تباہی کے دہانے پر ہے اور شہر میں موجود طالبان اور دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائیاں نہیں کی جا رہیں۔

شاہی سید نے کہا کہ کراچی میں بھی سوات اور بونیر میں کیے جانے والے آپریشن جیسی کارروائی کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ ایس پی سی آئی ڈی پولیس چوہدری اسلم جمعرات کی شام کراچی کے علاقے عیسیٰ نگری میں ہونے والے ایک دھماکے میں دو ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔

ان کی ہلاکت پر وزیراعظم پاکستان کے علاوہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی افسوس کا اظہار کیا گیا تھا۔

ایوارڈ کی سفارش

Image caption اعتزاز حسن گذشتہ پیر کو سکول پر خودکش حملہ کرنے کا ارادہ رکھنے والے لڑکے کو روکتے ہوئے ہلاک ہوگئے تھے

دریں اثنا خیبر پختونخوا کی پولیس کے انسپکٹر جنرل ناصر درانی نے صوبائی حکومت سے سفارش کی ہے کہ بہادری کا مظاہرہ کرنے پر اعتزاز حسن کو اعلیٰ سول ایوارڈ کے لیے نامزد کیا جائے۔

ہنگو کے ابراہیم زئی سکول میں نویں جماعت کے طالبعلم اعتزاز حسن نے گذشتہ پیر کو اپنے سکول پر خودکش حملہ کرنے کا ارادہ رکھنے والے لڑکے کو روکنے کی کوشش کی تھی اور اسی دوران دھماکے سے وہ اور حملہ آور دونوں ہلاک ہوگئے تھے تاہم سکول تباہی سے بچ گیا تھا۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق ناصر درانی نے وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا کو ایک خط لکھا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ اگرچہ اعتزاز حسن نے اپنی جان کا نذرانہ دے دیا لیکن ان کی بہادری سے دیگر بچوں کی جان محفوظ رہی۔

انھوں نے مزید کہا ہے کہ اس دلیر طالبعلم کی جرات کو اعلیٰ سطح پر تسلیم کرنا چاہیے اور اس کے خاندان کو معاوضہ بھی ملنا چاہیے۔ صوبائی حکومت نے اس سفارش پر اب تک کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔

ہنگو میں جمعے کو اعتزاز کے سکول کے اساتذہ اور طالبعلموں نے ان کے لیے قران خوانی کی ہے جبکہ ان کے گھر پر فاتحہ خوانی کا سلسلہ چوتھے روز بھی جاری رہا۔

اعتزاز کے کزن مدثر بنگش نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اپنے علاقے کے منتخب نمائندوں سے شکوہ ہے کہ ان میں سے کوئی ایک بھی ان کے حجرے میں آ کر فاتحہ خوانی میں شامل نہیں ہوا۔

اسی بارے میں