تربت سے 10سالہ بچے کی تشدد شدہ لاش برآمد

Image caption تیسری جماعت کے طالب علم چاکر بلوچ کا خاندان حال ہی میں تربت منتقل ہوا ہے

بلوچستان کے علاقے تربت سے گذشتہ چند دن سے لاپتہ تقریباً 10 سالہ بچے کی تشدد شدہ لاش ملی ہے۔

چاکر بلوچ نامی بچے کے بھائی بلوچستان کی قوم پرست تحریک میں سرگرم ہیں۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق تربت سٹی پولیس تھانے پر عبدالرحمان نامی ایک شخص کی جانب سے سنیچر کو درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق 10سالہ چاکر ولد خدا دوست بازار کی طرف گیا تھا، جس کے بعد لاپتہ ہوگیا، جمعے کی شام انھیں میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ سول ہپستال میں ایک لاش لائی گئی ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق جب رشتے دار سول ہپستال پہنچے تو انھوں نے مقتول کی شناخت بطور چاکر کی، جس کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف دائر کی گئی ہے۔

تربت پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں ایک چراوہے نے بذریعہ ٹیلیفون اطلاع دی تھی کہ کیچ کور ندی میں ایک لاش موجود ہے، جس کو پولیس نے تربت ہپستال پہنچایا۔

ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس لاش کی حالات اور طریقہ واردات ویسا ہی ہے، جس طرح سے پہلے لاشیں ملتی رہی ہیں۔

تیسری جماعت کے طالب علم چاکر بلوچ پنجگور کے گاؤں پروم کے رہائشی تھے اور حال ہی میں تربت منتقل ہوئے تھے۔

ان کے ستر سالہ والد خدا دوست زمینداری کرتے ہیں جبکہ بڑے بیٹے بلوچستان کی قوم پرست جماعت سے وابستہ ہیں۔

چاکر بلوچ کے خاندان کے ایک فرد نے ٹیلیفون پر بی بی سی کو بتایا کہ ’چاکر کو تربت شہر کے مچھلی بازار کے قریب گلی سے موٹر سائیکل سوار دو افراد اپنے ساتھ اٹھا کر لے گئے تھے۔ تھوڑا آگے جاکر ایک دوسری موٹر سائیکل پر سوار دو اہلکار بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے، ان تمام لوگوں کے چہرے کھلے ہوئے تھے، لیکن خوف کے باعث لوگ چشم دید گواہ خاموش ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ چاکر کے والد خدا دوست پر بھی کچھ عرصہ پہلے فائرنگ کی گئی تھی، جس میں وہ بچ گئے، اس سے پہلے چاکر کے 16 سالہ کزن ثنااللہ کو پنجگور سے اٹھایا گیا جو ابھی تک لاپتہ ہے، چھاپوں سے تنگ آ کر خاندان کے کئی نوجوان علاقہ اور ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے ایک مقامی اخبار میں خبر شائع ہو چکی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بلوچستان سے 10 سے زائد نوعمر لڑکوں کو حراست میں لیا گیا ہے، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان سے اشتعال انگیز مواد برآمد ہوا ہے۔

تربت کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سات جنوری کو چاکر بلوچ لاپتہ ہوا، اسی روز بارش ہو رہی تھی، ایک ہاسٹل اور دیگر مقامات پر چھاپے مارکر کچھ نو عمر لڑکوں کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔

چاکر بلوچ کے پوسٹ مارٹم کے دوران جسم پر تشدد کے نشانات کی تو تصدیق ہوئی ہے لیکن جنسی زیادتی کی کوئی علامت نہیں ملی۔

چاکر کے قبیلے کی ایک معزز شخصیت نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بچے کا قتل معمہ ہے کیونکہ یہ خاندان علاقے میں مہمان ہے اور کوئی انھیں نہیں جانتا تھا، اسی طرح ان کی کسی سے کوئی ذاتی رنجش بھی نہیں اور بلوچ روایت میں بچے اور خواتین پر کبھی وار نہیں کیا جاتا۔

اسی بارے میں