خیبر پختونخوا: سیاست دانوں پر حملے، اے این پی کے رہنما سمیت 8 افراد ہلاک

Image caption میاں مشتاق عوامی نیشنل پارٹی پشاور کے صدر بھی رہ چکے ہیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں اتوار کو سیاست دانوں پر حملے ہوئے ہیں جن عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر سمیت تین رہنما ہلاک ہوگئے جبکہ وزیرِ اعظم کے مشیر امیر مقام بال بال بچے ہیں۔ ان دونوں حملوں میں آٹھ افراد مارے گئے ہیں۔

پشاور کے نواح میں ماشو خیل میں ہونے والے حملے میں عوامی نیشنل پارٹی کے سابق صوبائی نائب صدر میاں مشتاق سمیت تین افراد مارے گئے جبکہ شانگلہ میں وزیرِ اعظم کے مشیر کے قافلے پر ہونے والے حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔

پہلا حملہ اتوار کی صبح وزیرِ اعظم کے مشیر امیر مقام کے قافلے پر اس وقت ہوا جب ذرائع کے مطابق امیر مقام اور مقامی ایم پی اے عبدل منعیم ایک راضی نامے کے سلسلے میں مارتونگ گئے تھے کہ واپسی پر کنہار کے مقام پر یہ دھماکہ ہوا۔

دوسرا حملہ اتوار کو پشاور کے نواحی علاقے ماشو خیل میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں مشتاق پر اس وقت ہوا جب وہ اس علاقے میں جا رہے تھے کہ ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی جس سے وہ ہلاک ہو گئے۔

پشاور کے مرکزی پولیس کنٹرول روم نے نامہ نگار محمود جان بابر سے بات کرتے ہوئے ان کے ساتھ اس واقعے میں دو اور افراد کی ہلاکت کی تصدیق بھی کی جن میں ایک مقامی رہنما گُل رحمان بھی شامل تھے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار نے کہا کہ گُل رحمان خدائی خدمتگار تھے اور اس کے باوجود کہ ان رہنماؤں کو قتل کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں وہ اپنے آبائی علاقے میں موجود تھے۔

نامہ نگارمحمود جان بابر سے بات کرتے ہوئے اے این پی کے ایک باخبر کارکن کا کہنا تھا کہ میاں مشتاق جماعت کے آئندہ انتخابات میں خیبرپختونخوا کے صدر کے عہدے کے لئے حصہ لینے والے تھے۔

ماشو خیل کے ایک رہائشی مسعود خان نے بی بی سی کوبتایا کہ گذشتہ کافی عرصے سے یہاں حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور سینیچر اور اتوار کی درمیانی شب دو بجے سلیمان خیل میں چار دھماکے کئے گئے ہیں جن سے چارگھر زمین بوس ہوئے ہیں۔

ماشوخیل کا علاقہ خیبرایجنسی سے متصل پشاور کی آخری حد تصورکیا جاتا ہے جو اس قبائیلی ایجنسی سے لگ بھگ صرف دو کلومیٹر دور ہے۔

اہل علاقہ نے بی بی سی کوبتایا کہ کچھ عرصہ قبل اسی روڈ پرنامعلوم افراد نے حملہ کر کے شیخ محمد گرڈ اسٹیشن کونقصان پہنچایا تھا جس میں کئی پولیس والے اور واپڈا اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی طرح اسی علاقے میں گذشتہ دنوں پولیو ٹیموں کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کونشانہ بنایا گیا تھا جس میں تین پولیس اہلکارموقع پر ہی ہلاک ہوگئے تھے۔ اس علاقے میں بعض لوگوں نے خیبرایجنسی میں طالبان رہنما منگل باغ کی کاروائیاں روکنے کے لئے امن لشکر بھی بنائے ہوئے ہیں جن پرکئی بارحملہ کیا جاچکا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ سال عوامی نیشنل پارٹی کے 59 کارکنان کو شہید کیا گیا پارٹی دفاتر، رہنماؤں کے گھروں اور کاروباری املاک پر 19 بم حملے کیے گئے۔‘

پارٹی کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’2008 کے عام انتخابات میں پارٹی کی جیتی ہوئی دونوں نشستوں پر مئی2013 کی انتخابی مہم کے دوران دونوں امیدواران کی انتخابی مہم پر بم حملے کیے گئے جس میں 24 کارکنان شہید ہوئے۔‘

Image caption امیر مقام پر اس سے قبل بھی کئی بار حملے ہو چکے ہیں

شانگلہ میں ہونے والے حملے کے بارے میں ڈی آئی جی ملاکنڈ عبداللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے میں ایک پولیس وین مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

پولیس کا کہنا کہ مرنے والوں میں آصف، جواد، لیاقت، فضل حیات اور جعفر شاہ شامل ہیں اور یہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول تھا۔

دوسری جانب انجنیئر امیر مقام نے میڈیا کو بتایا کہ ہم دھماکوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور آخری سانس تک دہشت گردوں کا مقابلہ کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ان پر اس سے پہلے بھی پانچ حملے ہو چکے ہیں اور یہ چھٹا حملہ تھا تاہم میں ڈرنے والا نہیں ہوں۔

اسی بارے میں