مذاکرات سے انکار کرنے والوں سے جنگ ہو گی: چوہدری نثار

Image caption چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ بات چیت کا فیصلہ میں تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کی مشاورت شامل تھی

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ بات چیت سے انکار کرنے والوں سے جنگ ہو گی۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق چوہدری نثار نے کہا کہ مذاکرات کی پیش کش قبول نہ کرنے والوں کا تعاقب کریں گے۔

2013: طالبان سے مذاکرات کا خواب ادھورا ہی رہا

طالبان کو مذاکرات سے پہلے تحفظ دیا جائے: مولانا سمیع الحق

’ملا فضل اللہ بھی وہی کریں گے جو حکیم اللہ نے کیا‘

پاکستان میں حالیہ شدت پسندانہ حملوں میں اعلیٰ سیاسی اور سرکاری شخصیات کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے بعد حکومت سے طالبان کے خلاف کارروائی یا مذاکرات میں پیش رفت کے لیے دباؤ بڑھا ہے۔

ایسے میں اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ ’ملک میں امن کے لیے طالبان کے ساتھ مذاکرات حکومت کی پہلی ترجیح ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا حکومت اپنی اس پالیسی پر قائم رہے گی۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ بات چیت کا فیصلہ کل جماعتی کانفرنس کے بعد کیا گیا تھا اور اس میں تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کی مشاورت شامل تھی۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ’طالبان کے ساتھ مذاکرات اور ان کے خلاف کارروائی دونوں مشکل اقدامات ہیں۔‘

چوہدری نثار نے کہا کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی وجہ سے ان پر خاصی تنقید کی جا رہی ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’مختلف گروہوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور امید ہے کہ اس کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔‘

وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کا کہنا تھا: ’مذاکرات کی پیش کش کا مثبت جواب دینے والے طالبان کا حکومت خیر مقدم کرتی ہے اور جو لوگ گولی کی زبان میں بات کریں گے انہیں اسی طرح جواب دیا جائے گا۔‘

چوہدری نثار نے کہا کہ ’صرف آپریشن سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم نظر نہ آنے والے دشمن سے بر سرِ پیکار ہیں اور یہ لوگ کسی ایک جگہ موجود نہیں ہیں۔‘

طالبان سے مذاکرات کے بارے میں ان کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات پاکستان کے آئین کے مطابق اور پاکستان کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھ کر کریں گے۔

اسی بارے میں