’امن سے پہلے تبدیلی کی توقع نہ رکھی جائے‘

اسد عمر
Image caption اسد عمر کا خیال ہے کہ ان کی حکومت کی کارکردگی کی بنیاد پرلوگ انہیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ یعنی دوتہائی اکثریت دیں گے

پاکستان کی سیاسی جماعت تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد عمر کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن کے قیام تک کسی تبدیلی کی توقع نہ رکھی جائے۔

وہ اسلام آباد میں بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت کی کارکردگی اور طرزِ حکمرانی سے متعلق معاملات پر بات کر رہے تھے۔

دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کا پورا احساس ہے کہ ’امن ہی خیبرپختونخوا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اورجب تک صوبہ حالت جنگ سے نہیں نکلے گا کسی تبدیلی اور بہتری کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔‘

تاہم انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اگر فوری انتخاب ہوئے تو ان کی حکومت کی کارکردگی کی بنیاد پرلوگ انہیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ یعنی دو تہائی اکثریت دیں گے۔

اسد عمر سے پوچھا گیا کہ جب وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ لوگ ان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں توعام لوگ کیوں کہہ رہے ہیں کہ حکومت کچھ کر نہیں رہی؟ ان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے میں تحریک انصاف نظام کوطاقت دے رہی ہے جو بہترمستقبل کو بنیاد فراہم کرے گا۔

’اب عام لوگ پولیس، پٹواری، وزیروں اوربیوروکریسی کے رویے میں آنے والی تبدیلی سے خوش ہیں اورسرکاری اداروں میں تقرری اور تبادلے بھی بغیر کسی مداخلت کے ہو رہے ہیں۔‘

تحریک انصاف میں اگرعمران خان کو پارٹی کا سیاسی سربراہ کہتے ہیں تواسد عمر بھی گنتی کے ان چند سرکردہ لوگوں میں شامل ہیں جن کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ اپنے تجربے کی روشنی میں پارٹی کی انتظامی امور میں سمت متعین کرتے ہیں اورخیبر پختونخوا میں اپنی حکومت کو مدد فراہم کرتے ہیں۔

ہنگو میں خودکش حملہ ناکام بنانے والے طالب علم اعتزاز حسن کے معاملے پر عمران خان کی جانب سے صوبے کے وزیراعلیٰ کوسرعام تنقید کا نشانہ بنانے پر ان کا کہنا تھا کہ اس کا جواب تو عمران خان ہی دے سکتے ہیں لیکن صوبائی حکومت نے ہنگو کے طالب علم کے خاندان کی خبرگیری نہ کرکے معاملے کو ٹھیک طریقے سے ہینڈل نہیں کیا۔

یاد رہے کہ عمران خان کی جانب سے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو غفلت کا مرتکب قراردینے کے بعد صوبائی حکومت نے اعتزاز حسن کے خاندان کے لیے پچاس لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی سے متاثرہ صوبے خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو قائم ہوئے سات ماہ ہونے کو ہیں لیکن صوبہ حکومت کی انتظامی، معاشی، انفراسٹرکچر اوردیگر معاملات میں مشکلات کے حوالے سے خبروں کی زد میں ہے۔

افغانستان سے اس کی قربت کی بدولت صوبہ ان جنگوں سے براہ راست متاثر ہے جوافغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں لڑی جا رہی ہیں۔

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت بننے کے بعد سے اب تک ترقیاتی بجٹ کیوں استعمال نہیں ہوسکا اورحکومت اپنی بیوروکریسی پر اعتماد کرنے کی بجائے بھاری رقوم کے عوض ماہرین کوکیوں لا رہی ہے تو اسد عمر کا کہنا تھا کہ ’ان ماہرین کے آنے سے شفافیت کوفروغ ملےگا کیونکہ یہ بات سب کومعلوم ہے کہ اس سے پہلے ان ترقیاتی منصوبوں کے لیے جاری رقوم میں بے تحاشہ چوری اور بے ایمانی ہوتی رہی ہے۔‘

خیال رہے کہ صوبے کے وزیرخزانہ سراج الحق یہ بات سرعام کہہ چکے ہیں کہ اگرترقیاتی بجٹ جلد جاری نہ کیےگئے تو شاید ان کواستعمال نہ کیا جاسکے اور یہ معیاد ختم ہونے کے بعد ضائع ہوجائیں گے۔

اس تاثر کے بارے میں کہ صوبائی حکومت کے زیادہ تر معاملات وزیراعلٰی اور صوبائی وزرا کے علم میں آئے بغیر ہی ’بنی گالا‘ یعنی عمران خان اور ان کے چند دوستوں کے مشوروں سے ہی طے کیے جاتے ہیں۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہے بلکہ اپنے اتحادیوں میں سے آفتاب شیرپاؤ کی قومی وطن پارٹی کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کا پارٹی کی چیئرمین ہی کو اختیار ہے کیونکہ یہ ایک سیاسی فیصلہ تھا جس کا صوبے کی حکومت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں جبکہ صوبے میں چلنے والے انتظامی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔‘

اسد عمرکا کہنا تھا کہ ان کی حکومت تعلیم سمیت ہرمیدان میں پوری تیاری کے ساتھ بنیادی کام کر رہی ہے جس کے اثرات جلد ہی ملنا شروع ہوجائیں گے اوران کی حکومت نے بلدیاتی نظام، احتساب اورمعلومات تک رسائی کے قوانین منظور کرکے پائیدار بہتری کی بنیاد رکھ دی ہے۔

اسی بارے میں